خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 241

$1951 241 خطبات محمود بڑھتا ہے۔کمزور آدمی جب روشنی دیکھتا ہے تو وہ اکڑ کر چلنے لگتا ہے اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا ہو جاتا ہے لیکن مومن ہر وقت ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔پس یہ چیز الہی سلسلوں کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہے اور اس سے پتا لگتا ہے کہ ہمیشہ مصائب بھی آئیں گے اور ترقیات بھی ہوتی رہیں گی۔اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ مصائب اور ترقیات اپنے اندر ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہیں تو دو سال یا دس سال کے کوئی معنے ہی نہیں۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ دین کی گاڑیاں ہمیشہ پھنستی رہیں گی اور نکلتی رہیں گی۔اور جب گاڑیاں پھنستی رہیں گی تو لازماً ہمیں قربانیاں بھی ہمیشہ دینی پڑیں گی۔ایک پہاڑی پر چڑھنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم نے دوسری پہاڑی پر نہیں چڑھنا۔ہمیں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر چڑھنا ہوگا اور پھر دوسری سے تیسری پہاڑی پر چڑھنا ہوگا۔روحانی اور جسمانی پہاڑیوں میں صرف یہ فرق ہے کہ جسمانی پہاڑیاں ختم ہو جاتی ہیں لیکن روحانی پہاڑیاں ختم نہیں ہوتیں۔كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيْه میں خدا تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ کس طرح الہی سلسلوں کے ساتھ یہ دور چلتے چلے جاتے ہیں۔اور جب یہ دور چلتے چلے جائیں گے اور کمزوروں نے بھی ہونا ہے اور مخلصوں اور السابقون الاولون نے بھی ہونا ہے تو قربانیاں بھی ہمیشہ ہی دینی پڑیں گی۔پس الہی سنت کے مطابق وعدے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔اور یہ تو ایک اعلان تھا جو ہر وقت تبدیل کیا جاسکتا تھا۔پس حیرت کی یہ بات نہیں کہ تین سال سے دس سال کیسے بن گئے یا دس سال سے انیس سال کیسے بن گئے یا انہیں سال سے ہمیشہ کیسے بن گیا۔بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ میرے جیسا آدمی جس کی ساری عمر قرآن کریم کے گہرے مطالعہ میں گزری ہے اُس کے منہ سے تین سال یا دس سال یا انیس سال کیسے نکلے۔گویا تین سال، دس سال یا انیس سال کہنا حیرت کی بات ہے ہمیشہ کہنا حیرت کی بات نہیں۔میں جب اس چیز کو بیان کرتا ہوں تو اپنے دل میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔اس لیے نہیں کہ میں نے تین سال سے انیس سال کیوں کہہ دیا بلکہ اس لیے کہ میری عقل پر کونسا پردہ پڑ گیا تھا کہ میں نے اسے انیس سال سمجھ لیا۔میں نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ کوئی وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب مسلمان تربیت اور تبلیغ سے فارغ ہو جائے گا۔عام مسلمانوں کا خیال ہے اور پرانی تفسیروں میں بھی یہی آتا ہے کہ جنت میں انسان کام سے فارغ ہو جائے گا اور اُس کی جو خواہش ہوگی وہ پوری ہو جائے گی۔اُسے بیویاں ملیں گی ، لونڈیاں ملیں گی ، بادشاہت ملے گی ، جنتی شراب طہور