خطبات محمود (جلد 32) — Page 239
$1951 239 خطبات محمود کہ اگر ایک سال یا دو سال یا تین سال کی قربانی سے احمدیت کی حفاظت ہوتی ہے اور ہماری مخالفت کا زور کم ہوتا ہے تو آؤ ہم پورا زور لگا کر قربانی کریں۔دوسرا نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ کے چندے بھی باقاعدہ ہو گئے۔مجھے یاد ہے کہ اُس وقت ناظروں نے مجھ سے پروٹیسٹ کیا تھا کہ صدر انجمن احمد یہ مالی لحاظ سے تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہے۔اس وقت مالی قربانی کی ایک نئی تحریک کر کے آپ نے اسے تباہی کے اور قریب کر دیا ہے۔مگر میں نے انہیں یہی جواب دیا تھا کہ میری اس تحریک کے نتیجہ میں صدر انجمن احمدیہ کے باقی چندے بھی باقاعدہ ہو جائیں گے۔چنانچہ پھر ان کے چندوں نے بھی بڑھنا شروع کیا اور یہ تحریک بھی اوپر چڑھتی گئی اور صدرانجمن احمدیہ کا اُس وقت پانچ ، چھ لاکھ روپیہ بجٹ تھا اور اب بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کا بجٹ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام کام اپنے اندر ویوز (Waves) اور لہروں کا سارنگ رکھتے ہیں اور ان سب میں ایک تدریجی ارتقاء پایا جاتا ہے۔ایٹم بم کو ہی لے لو وہ بھی اسی تھیوری کے ماتحت ہے۔اسی طرح دریاؤں اور سمندروں کو دیکھ لو شروع شروع میں جب دریا نکلتا ہے تو وہ ایک چھوٹی سی نالی ہوتی ہے۔اُسے دیکھ کر انسان و ہم بھی نہیں کر سکتا کہ یہ چھوٹی سی نالی دریا بننے والی ہے۔میں نے دریائے جہلم کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا ہے، دریائے راوی کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا ہے اور دریائے بیاس کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا ہے۔دریائے جہلم کا تو بالکل ابتدائی حصہ دیکھا ہے۔وہ اتنا چھوٹا ہے کہ ہم اُسے تیز قدم سے گود جایا کرتے تھے۔یہ مقام کشمیر میں واقع ہے اور اسے ویری ناگ کہتے ہیں۔وہ جگہ صرف اتنی چوڑی ہے کہ انسان لمبا قدم مار کر یا ذرا اُچھل کر اسے گود جاتا ہے۔اور اگر کوئی لمبا آدمی ہو تو شاید بغیر اچھلے ہی اسے گو دجائے۔راوی کے دہانے پر ہم نہیں پہنچے لیکن جو جگہ ہم نے دیکھی ہے وہ ایسی ہے کہ انسان بانس کے ساتھ اُسے پار کر لیتا ہے۔بیاس کا پاٹ بھی میں نے دیکھا ہے۔بیاس کا بالکل ابتدائی حصہ تو نہیں دیکھا لیکن جو جگہ دیکھی ہے وہ کوئی چار پانچ گز چوڑی ہو گی۔اگر ہم اوپر جاتے تو شاید وہ مقام بھی ایسا ہی ہوتا کہ ہم پھلانگنے سے پار ہو جاتے۔سندھ کا ابتدائی حصہ بھی میں نے دیکھا ہے وہ اتنا چوڑا تھا جتنی ایک چھوٹی نہر ہوتی ہے۔گویا چار دریاؤں کے پاٹ میں نے دیکھے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کوئی دریا بھی ایسا نہیں دیکھا جو شروع سے ہی دریا کی شکل میں نکلتا ہو۔سارے دریا شروع میں نالیوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ