خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 138

$1951 138 خطبات محمود تی جاتی ہیں۔لیکن کبھی کسی نے یہ بھی دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کا سورج کبھی ایک سیکنڈ پہلے یا بعد میں چڑھا ہو؟ کروڑ ہا سال پہلے سورج جس وقت نکلتا تھا اُسی وقت اب بھی نکالتا ہے لیکن ہماری الارم کی گھڑیاں کبھی پہلے الارم دے دیتی ہیں اور کبھی بعد میں۔میں جنگ کے بعد سے اس وقت تک نچ گھڑیاں منگوا چکا ہوں وہ سب روزانہ پندرہ بیس منٹ سُست (Slow) ہو جاتی تھیں۔جو گھڑیاں میرے پاس بطور تحفہ آتی ہیں اُن کا بھی یہی حال ہے۔پتا نہیں لوگ کیسے گزارہ کر لیتے ہیں؟ یا پھر یہ ہے کہ میرا گھڑیوں پر رعب پڑ جاتا ہے اور وہ سب پندرہ بیس منٹ سست ہو جاتی ہیں۔یہ گھڑیوں کا حال ہے۔ریلوں کا حال میں نے پہلے بتایا ہے۔غرض جو کام بھی انسان کرتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ دیر لگ جاتی ہے لیکن کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کا چاند کبھی ایک سیکنڈ پیچھے چڑھا ہو؟ نہ چاند بھی اپنے وقت مقررہ سے پیچھے نکلا ہے، نہ سورج اپنے وقت مقررہ سے پیچھے نکلا ہے اور نہ ستارے کبھی پیچھے نکلے ہیں، نہ زمین اپنی چال میں سُست ہوئی ہے اور نہ باقی سیارے سُست ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے رات کے لیے جو وقت مقرر کیا ہے کہ یہ فلاں وقت آئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک رات اُسی وقت آتی ہے، سورج کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا ہے کہ گرمیوں میں فلاں وقت سورج نکلے اور سردیوں میں فلاں وقت نکلے سورج حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک اُسی وقت نکلتا چلا آ رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً تم خدا تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو اور دیکھو کہ وہ کس طرح اپنے مقررہ قانون پر چل رہا ہے۔لوگ مثال دیتے ہیں کہ شسی کلاک وانگو چلو۔یہاں تو کلاک بھی سست ہو جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز سیکنڈ کا ہزارواں حصہ بھی کبھی لیٹ نہیں ہوئی۔بیشک بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے لیے خدا تعالیٰ نے کوئی معین وقت مقرر نہیں کیا لیکن خدا تعالیٰ نے اُن کے لیے بعض موسم (Season) مقرر کر دیئے ہیں۔مثلاً بارش کے لیے یہ نہیں کہا گیا کہ وہ سات ساون کو ہوگی یا سات بھادوں کو ہوگی بلکہ یہ کہ دیا گیا کہ ہاڑھ سے لے کر بھادوں تک بارش کا موسم ہو گا۔اس دوران میں کبھی زیادہ بارش ہوگی اور کبھی کم۔لیکن یہ نہیں کہ بارش کا موسم ان مہینوں سے دوسرے مہینوں میں تبدیل ہو جائے۔نہ یہ وقت کبھی زیادہ ہوا ہے اور نہ کم ہوا ہے۔گویا جن چیزوں کے لیے خدا تعالیٰ نے وقت کی تعیین کر دی۔