خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 137

$1951 137 خطبات محمود تمام لوگوں کی لسٹیں بنائی جاتیں اور کہا جاتا کہ تمہارا اس سال کا اتنا وعدہ تھا نو ماہ تم نے سستی سے کام لیا ہے، اب اسے ادا کر دو ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔اس طرح جن لوگوں نے وعدہ نہیں کیا اُن کی سے وعدے لیتے اور اُن سے جلد وصولی کا انتظام کرتے تارو پیر آتا اور مشکل دور ہوتی۔اس ماہ دفتر کے کارکنوں کو گزارہ نہیں ملا۔وہ کیا کریں گے؟ کیا یہ کہہ دیا جائے گا کہ گوجرانوالہ کی ایک دھواں دھار تقریر ایک محکمہ کو دے دی جائے اور اُن کو کہا جائے کہ وہ اُسے آپس میں تقسیم کر لیں ، لا ہور کی دھواں دھار تقریر دوسرے محکمہ کو دے دی جائے کہ وہ آپس میں تقسیم کر لیں ، راولپنڈی کی دھواں دھار تقریر تیسرے محکمہ کو دے دی جائے کہ وہ آپس میں تقسیم کر لیں۔جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ؟ پہلے یہ گناہ کیا کہ وعدہ ادا نہیں کیا اور اب مزید جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ ہم نے دھواں دھار تقریریں کر دی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ توجہ سے کام نہیں کیا گیا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے بعض ای رپورٹیں خوش گن ہیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا ہے کہ یا تو وعدہ ادا کر کے جاؤ یا یہ بتاؤ کہ کس دن ادا کرو گے۔حتی کہ بعض مہاجرین کی جماعتیں ہیں اُنہوں نے اس رنگ میں کام کیا ہے اور اُن کی کوشش کے نتیجہ میں لوگوں نے وعدے ادا کیے ہیں۔اور جن لوگوں نے وعدے ادا نہیں کیے انہوں نے ایک معین وقت کے بعد ادا ئیگی کا وعدہ کیا ہے۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ جس کام کے لیے کھڑی ہوئی ہے وہ اُس کے رنگ کو بھی اختیار کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةَ - 2 اللہ تعالیٰ کے صبغہ کو اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ کے صبغہ سے اچھا کونساصبغہ ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا رنگ جمانے سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔اور خدا تعالیٰ کا رنگ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ کر دیتا ہے۔اس لیے تم خدا تعالیٰ کا رنگ جمانے کی کوشش کرو۔کیا تم نے خدا تعالیٰ میں بھی کبھی سستی دیکھی ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی مسافر گھبرایا ہوا ریلوے اسٹیشن پر پہنچا اور وہ اسٹیشن ماسٹر کو کہنے لگا بابو جی! تین بجے والی گڈی کہیڑے ویلے جاندی اے؟ اسٹیشن ماسٹر بھی مذاقی تھا۔اُس نے کہا تین بجے والی گڑی دووج کے سٹھ منٹ تے جاندی ہے۔وہ مسافر کہنے لگا ایہہ بڑی خرابی اے کدے گڈی کسے ویلے جاندی ہے تے کدے گڈی کسے ویلے جاندی ائے“۔اُسے حساب نہیں آتا تھا۔وہ سمجھنے لگا کہ یہ اور وقت ہے اور وہ اور وقت ہے۔مگر یہ مذاق اس لیے بنا ہے کہ ریلیں دیر سے