خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 139

$1951 139 خطبات محمود وہ اپنے وقت مقررہ پر چل رہی ہیں اور جن چیزوں کے لیے وقت کی تعیین نہیں کی وہ غیر معتین دائرہ میں چل رہی ہیں۔سردیوں کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ وہ تین نومبر کو شروع ہوں گی یا تین دسمبر کو شروع ہوں گی بلکہ ان کے لیے نومبر، دسمبر ، جنوری اور فروری کے مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔اب یہ نہیں ہوگا کہ سردی ان مہینوں کی بجائے مارچ، اپریل اور مئی میں چلی جائے۔اسی طرح گرمیوں کے لیے مئی، جون جولائی کے مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔اس کے لیے یقین نہیں کی گئی کہ گرمی 10 مئی سے شروع ہوگی یا 10 جون سے شروع ہوگی لیکن یہ ضرور ہے کہ گرمی مئی اور جون جولائی میں ہی آئے گی۔یہی قانون ہے جو پورا ہورہا ہے کہ یہ گرمی کے مہینے ہیں اور یہ سردی کے مہینے ہیں اور یہ موسم ان مہینوں سے آگے پیچھے نہیں ہوں گے۔ہاں ! یہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران میں کبھی سردی یا گرمی زیادہ پڑنے لگے اور کبھی کم۔یہ نہیں کہ سردی گرمی کے مہینوں میں آجائے اور گرمی سردی کے مہینوں میں آ جائے۔صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً خدا کے رنگ کو اختیار کرو۔اور خدا تعالیٰ کا رنگ یہ ہے کہ وہ جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے اور اسے کر کے چھوڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں ؎ ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے 3 تم کہو گے کہ ہم خدا نہیں ہیں لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم انعام پانا چاہتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ جیسا بننا پڑے گا۔صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً - تم بیشک خدا نہیں لیکن تمہیں انعام پانے کے لیے خدا تعالیٰ کا رنگ اپنے اوپر جمانا پڑے گا۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ تم خدا تعالیٰ کی برکات حاصل کرو، اس کے انعام پاؤ اور اس کے فضلوں سے حصہ لو تو بعض امور میں جو خدا تعالیٰ کے رسول نے بتائے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے یا گزشتہ انبیاء نے اُن کو بیان کیا ہے یا علم اور عقل سے ہم انہیں معلوم کرتے ہیں ان میں ہمیں خدا تعالیٰ جیسا بننا پڑے گا۔اگر تم خدا تعالیٰ جیسا نہیں بنو گے تو لازماً شیطان جیسے بنو گے۔تمہیں خدا تعالیٰ کا رنگ چڑھانا پڑے گا تبھی تم اس کے برکات اور افضال کے وارث بن سکتے ہو۔اور خدا تعالیٰ کا رنگ یہ ہے کہ جو کہوا سے پورا کرو۔تحریک جدید کے جلسوں کی غرض یہ تھی کہ وعدوں کی ادائیگی میں جن لوگوں سے غفلت ہوئی ہے انہیں کہا جائے کہ وعدے پورے کرو۔نہ یہ کہ دھواں دھار تقریریں کروہ عملی طور پر کچھ نہ کرو