خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 257

$1950 257 خطبات محمود کروں کہ وہ تحریک جدید میں روپیہ بطور امانت رکھیں لیکن تحریک جدید کے افسرانہیں بدظن کریں۔سو میں تحریک جدید کو بھی کہوں گا کہ وہ اس نقص کو دور کرے بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جہاں تم خود اس روپیہ سے فائدہ اٹھاتے ہو وہاں روپیہ والوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔مثلاً جب وہ روپیہ منگوائیں تو منی آرڈر کا خرچ اپنے ذمہ لو۔اس قسم کی اور سہولتیں دے کر تحریک جدید اس کام کو مفید اور آسان بنا سکتی ہے۔اسی طرح میں نے کہا تھا کہ اگر امانت رکھنے والے اپنی امانت کو قرضہ کا نام دے دیں تو وہ زکوۃ سے محفوظ رہی سکتے ہیں۔عام طور پر لوگ خیال کرتے ہیں کہ امانت پر زکوۃ نہیں حالانکہ شرعی طور پر امانت پر زکوۃ ہے۔لیکن اگر تم اسے قرض کا نام دے دیتے ہو تو اس پر زکوۃ نہیں ہوگی۔مثلاً ایک شخص کے پاس اگر دس ہزار روپیہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے دو سال تک اس روپیہ کی ضرورت نہیں تو وہ روپیہ یہاں امانت رکھوا دے اور کہہ دے کہ ان میں سے ایک ہزار روپیہ تو امانت تابع مرضی میں رہنے دیجئے کہ جب ضرورت ہو میں رقعہ دے کر لے سکوں اور باقی نو ہزار روپیہ امانت غیر تابع مرضی میں رکھ لیں۔مجھے ضرورت ہوئی تو میں ایک ماہ یا دو ماہ کا نوٹس دے کر لے لوں گا۔اور امانت کا صیغہ چونکہ خیراتی ہے اس لئے اس پر زکوۃ نہیں پڑے گی اور وہ گناہ سے بچ جائیں گے۔بہت سے لوگ ہیں جن کا روپیا مانت میں موجود ہے لیکن وہ زکوۃ نہیں دیتے۔ایک زمانہ میں قادیان میں اکیس لاکھ خزانہ میں بطور امانت جمع تھا اور اکیس لاکھ روپیہ پر پچاس ہزار روپیہ زکوۃ پڑتی ہے۔لیکن اکثر لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے تھے اور وہ گنہگار بنتے تھے۔لیکن اگر وہ ایسی تجویز کر لیں کہ وہ اپنا روپیہ ایک ماہ یا دو ماہ کے نوٹس پر لے لیں تو وہ گنہگار بھی نہیں ہوں گے اور بوقتِ ضرورت انہیں رو پیل بھی سکے گا۔پس تم اپنے روپیہ کو قرض قرار دے دو اور کہ دو کہ ہم ایک ماہ یا زیادہ وقت کے نوٹس پر روپیہ لے سکیں گے۔لیکن اگر کسی کو فوری ضرورت پڑ جائے تو میں محکمہ والوں سے کہوں گا کہ وہ ایسے شخص سے تعاون کریں اور فوری ضرورت والے کو بطور قرض رقم دے دیں اور ایک ماہ کے نوٹس کے بعد جب اُس کی اپنی رقم برآمد ہو تو اُسی سے اپنا رضہ پورا کر لو۔اس طرح سلسلہ کو بھی مددملتی رہے گی اور جو روپیہ دین کے کام میں لگانے کی اجازت دے گاوہ زکوۃ سے بھی بچ جائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص زکوۃ نہیں دیتا اُس کی خدا تعالیٰ سے لڑائی ہوتی ہے۔اب دیکھو یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے جس کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ سے لڑائی کرنے سے بچ جاتے ہو۔