خطبات محمود (جلد 31) — Page 258
$1950 258 خطبات محمود جس شخص کے پاس خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے سے بچنے کا رستہ کھلا ہے اگر وہ اسے اختیار کر کے لڑائی سے نہیں بچتا تو اس سے زیادہ بد قسمت اور کون ہوگا کہ اس کے پاس لڑائی سے بچنے کے لئے ایک ذریعہ ہے لیکن وہ کہتا ہے میں خدا تعالیٰ سے ضرور لڑوں گا۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنا روپیہ بطور امانت تحریک جدید کے پاس رکھے اور تحریک جدید والوں کو چاہیے کہ وہ روپیہ ملنے پر فور ارسید بھیج دیں۔ہمارا روپیہ بنک میں جاتا ہے تو اُس کی رسید فورا آ جاتی ہے۔تحریک جدید کے متعلق کئی لوگوں کی شکایات کی موصول ہوئی ہیں کہ وہ وقت پر رسید نہیں بھیجتے۔میں اوپر بتا آیا ہوں کہ ایک فوجی افسر نے مجھے لکھا کہ میرا بائیس تئیں سوروپیہ بنک میں موجود تھا میں نے اسے امانت تحریک جدید میں داخل کرنے کے لئے چیک بھیجا مگر اُس چیک کی مہینوں تک رسید نہ آئی حالانکہ ہم بنکوں میں چیک بھیجتے ہیں تو اُس کی فورا رسید آ جاتی ہے۔بیشک یہ خطرہ ہوتا ہے کہ چیک واپس نہ آجائے لیکن کم از کم چیک کی تو رسید بھیج دی جایا ہم کرے۔یہاں یہ غفلت ہوتی ہے کہ صدر انجمن احمدیہ میں چیک اکٹھے کرتے چلے جاتے ہیں اور مہینہ کے آخر میں کیش کرا کے اکٹھی رسیدیں بھیجتے ہیں حالانکہ چیک کی رسید فور ابھیج دینی چاہیے۔اس کے بعد اگر وہ واپس آجائے تو اتنی رقم کاٹ لیں اور اسے لکھ دیں کہ چیک واپس آ گیا ہے۔صدر انجمن احمد یہ میں تو روپیہ رکھوانے کی لوگوں کو عادت پڑی ہوئی ہے۔لیکن میں تحریک جدید کے لئے جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنا روپیہ وہاں بھی امانت رکھا کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سال کچھ مشکلات بھی کی ہیں۔بعض دوستوں نے مکان بنانے کے لئے زمینیں خریدی ہیں اور پھر مکان بنانے شروع کئے ہیں اور یہ کام جمع شدہ روپیہ سے ہی کئے جاتے ہیں۔غیر معمولی حالات میں تو اسے عجیب نہیں سمجھا جاتا۔لیکن واقعات کے لحاظ سے یہ چیز عجیب بن جاتی ہے۔اس سال امانت تحریک جدید میں دولاکھ ستاون ہزار روپیہ کی آمد ہوئی ہے لیکن اس کے مقابل پر دولاکھ باسٹھ ہزار روپیہ واپس لیا جا چکا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ بعض دوستوں نے مکان بنانے کے لئے زمین خریدی اور پھر مکان بنا رہے ہیں۔اس طرح قدرتی طور پر صیغہ امانت پر بوجھ پڑا ہے۔لیکن بہر حال یہ ایسا بوجھ نہیں جسے غیر معمولی کہا جاسکے۔سوائے اِس کے کہ جماعت میں روپیہ جمع کرنے کی عادت نہ رہے۔جس وقت ہم قادیان سے نکلے ہیں اُس وقت وہی لوگ محفوظ رہے جن کی امانتیں تحریک جدید صدر انجمن احمدیہ میں تھیں۔یہاں پہنچ کر انہوں نے روپیہ واپس لے لیا اور کاروبار شروع کئے۔