خطبات محمود (جلد 31) — Page 256
$1950 256 خطبات محمود انہیں چاہیے کہ وہ دعائیں کریں کہ جو لوگ تحریک جدید میں حصہ لے سکتے ہیں اے خدا ! تو اُن کے دلوں کو کھول دے اور ان کو ایمان کی طاقت بخش کہ وہ اس میں حصہ لیں۔پھر جن کے پاس روپیہ جاتا ہے تو اُن کو ایمان بخش اور انہیں توفیق دے کہ وہ اسے صحیح طور پر خرچ کریں۔پھر جو زندگی وقف کرنے والے ہیں تو اُن کے دل کھول ، انہیں ایمان بخش اور انہیں اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنے والا بنا۔پھر جن کے پاس وہ مبلغ بن کر جاتے ہیں تو اُن کے دلوں کو کھول دے اور انہیں توفیق بخش کہ وہ احمدیت کی میں داخل ہوں۔اس طرح بھی تم مدد کر سکتے ہو۔اور یقین جانو کہ یہ مد در و پیہ کی مدد سے کم نہیں اور اس کا ثواب بھی اُن لوگوں سے کم نہیں جو روپیہ دے کر تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص خدمت دین کی خواہش رکھتا ہے اور اُسے خدمت کرنے کی توفیق م نہیں ملتی خدا تعالیٰ اُسے اُن لوگوں سے کم ثواب نہیں دے گا جن کو خدمت دین کی توفیق ملی ہے۔تیسری چیز جس کی طرف میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر بھی احباب کو توجہ دلائی تھی وہ یہ ہے کہ دوست تحریک جدید میں اپنی امانتیں رکھوائیں۔اس سے بھی وقتی طور پر سلسلہ کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ان دنوں جب چندہ کی آمد کم ہوئی تو کئی کام ان امانتوں نے پورے کر دیئے۔امانتوں میں سے رقم خرچ کر لی گئی۔چندہ آتا جاتا ہے اور امانتیں اُس سے پوری کر لی جاتی ہیں۔تمام بنکوں کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ روپیہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور مزید روپیہ آتا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ روپیہ مانگنے والوں کو بھی واپس دیتے رہتے ہیں۔مجھے بعض بنک کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اگر روپیہ دس فیصدی بھی محفوظ رکھ لیا جائے تو بنک میں کمی نہیں آتی۔لیکن یہاں تو ایسے سخت قانون ہیں کہ روپیہ میں سے دس آنے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔میرے پاس قادیان میں ایک انگریز آیا تھا اُس کو جب پتہ لگا کہ ہم روپیہ میں سے دس آنے محفوظ رکھتے ہیں تو اُس نے کہا اتنی احتیاط غیر ضروری ہے دس فیصدی اگر محفوظ رکھا جائے تو کام چلتا رہتا ہے۔غرض اس طرح روپیہ چکر لگاتا رہتا ہے اور ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور اس سے سلسلہ کو مددمل سکتی ہے۔لوگ شکایت کرتے ہیں کہ تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کے کھا نہ والے اُن سے تعاون نہیں کرتے۔مثلاً پچھلے سال میں نے تحریک کی تو ایک میجر صاحب نے لکھا کہ میں نے روپیہ بطور امانت بھجوایا لیکن مہینوں گزر گئے اور امانت تحریک جدید کے افسر نے رسید نہ بھیجی۔یہ تو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارنے والی بات ہے۔میں تو جماعت میں تحریک