خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 211

$1950 211 خطبات محمود ہوں کہ ایسا نہ کیا جائے لیکن ہر محکمہ کا آفیسر یہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اُس کا نام الفضل میں آجائے۔اور الفضل والوں کو بھی خدا ایسے اعلان دے۔جب ان کے پاس کوئی اعلان پہنچتا ہوگا وہ کہتے ہوں گے الْحَمدُ لِلہ آج مضمون نہیں لکھنا پڑے گا۔الفضل کے ایڈیٹروں کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ بھی کوئی مضمون لکھا کریں۔اس وقت یہ حالت ہے کہ الفضل کا ایک حصہ غیروں کے پڑھنے کے قابل نہیں ہوتا۔کوئی مبلغ آتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ چلو اپنی کچھ روئیداد ہی لکھ دوں۔وہ روئیدا دیکھ دیتا ہے اور الفضل اسے شائع کر دیتا ہے۔حالانکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بددیانت ہوتا ہے اور دفتر کی طرف سے زیر عتاب ہوتا ہے لیکن الفضل اس کا نام اُچھالتا رہتا ہے۔اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم بالکل اعلان نہ کرو۔اعلان کرو لیکن کوشش کرو کہ الفضل کی تھوڑی جگہ لو۔مگر سب سے ضروری یہ بات ہے کہ لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں، اپنے دلوں کو بدلیں اور دعاؤں پر زور دیں۔یہی لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں اگر راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعاؤں میں لگ جائیں کہ جن لوگوں نے وعدے کئے ہیں اور انہیں ایفاء نہیں کیا اے خدا! تو انہیں اپنے وعدے ایفاء کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کے دلوں کو صاف کر ، اُن کی ہستیاں دور فرما۔تو کام کرنے والا خدا ہے۔وہ خدا جس نے جماعت کو ایک سے لاکھوں کر دیا۔وہی خدا اب بھی اسے لاکھوں سے کروڑوں کر دے گا۔اور وہ خدا جس نے ایک روپیہ سے لاکھوں کر دیا وہی خدا اب بھی کھوٹے سکوں کو جو اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں دیئے جاتے قیمتی کر دے گا۔میں پہلے ربوہ کے رہنے والوں سے کہوں گا کہ وہ دعائیں کریں اور اپنے قلوب کو صاف کریں تا ان کی مستیاں دور ہوں۔اس وقت ساری دنیا کی زندگی اور موت کا سوال ہے، اس وقت تمہاری اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے۔اس وقت تمہارے بیوی بچوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے، اس وقت جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔تم اپنے قلوب کو صاف کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ تا تمہاری ستیاں دور ہو جائیں۔جو وعدہ تم نے خود کیا ہے آخر اس کے متعلق تم خدا کے سامنے کیا جواب د گے۔تحریک جدید کے کارکنوں کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔آخر وہ کام کریں گے کیا۔انہیں پہلے ہی تنخواہ کم دی جاتی ہے اور وہ بھی دو ماہ سے رُکی ہوئی ہے۔مجھے ایک واقف زندگی کے متعلق دفتر کا خط آیا کہ اُس کی بیوی بیمار ہے اور ڈاکٹروں کی رائے میں اُسے فورا ہسپتال میں داخل کرانا ضروری ہے۔دو