خطبات محمود (جلد 31) — Page 210
$1950 210 خطبات محمود مالی کمزوری تو صحابہ میں بھی تھی بلکہ ان میں مالی کمزوری ہم سے زیادہ تھی۔لیکن ان کے اندر بشاشت ایمان تھی جہاں روپیہ سے کام نکلتا تھاوہ اپناروپیہ بے دریغ بہا دیتے تھے اور جب روپیہ نہیں ملتا تھا تو وہ اپنی جانیں پیش کر دیتے تھے۔انہیں کام سے غرض تھی وہ روپیہ کی کمی کو جان کی قربانی کے ذریعہ پورا کر دیتے تھے۔جب وہ دیکھتے تھے کہ روپیہ سے کام چلے گا تو وہ اپنی سب پونجی خرچ کر دیتے تھے اور جہاں روپیہ میں کمی ہوتی وہ اپنی جانیں قربان کرنے میں دریغ نہ کرتے۔اگر یہ روح ہماری جماعت میں بھی پیدا ہو جائے تو ہمارے سب کام چل جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کون سے اخبار تھے ؟ کونسا الفضل تھا؟ کونسار یو یو تھا ؟ کونساسن رائز (Sun Rise) تھا؟ کونسا مصباح تھا؟ ایک آواز نکلتی تھی اور لوگ کام کر دیتے تھے۔اب روزانہ اعلان ہوتے ہیں مگر لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اب تو اتنے اعلان ہونے لگ گئے ہیں کہ مجھے بھی یہ بات بُری محسوس ہوتی ہے۔آخر اتنے اعلانوں کی ضرورت کیا ہے۔اگر لوگ چندہ نہیں یتے تو نہ دیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ اعلان کرنا بالکل بند کر دیا جائے۔کسی حد تک اعلان کرنا تو ضروری ہے ہے۔ہر سال کے آخر میں میری طرف سے بھی ایک چھوٹا سا اعلان الفضل میں متواتر شائع ہوا کرتا تھا اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اعلان اب میں دوبارہ شائع کرانا شروع کروں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ الفضل کا اکثر حصہ اس وقت اشتہاروں میں خرچ ہوتا ہے یہ روکنا چاہیے۔مثلاً آج کے الفضل کا ایک صفحہ تو انچارج بیعت نے ہی لے لیا ہے۔اگر یہ اعلان شائع نہ ہوتا تو کیا حرج تھا۔لیکن الفضل میں ان کا نام کیسے چھپتا۔ہرمحکمہ کا افسر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی کارروائی دکھانے کے لئے اپنا اعلان الفضل میں شائع کی کرتا رہے اور پھر صفحہ بھر سے کم بھی نہ لے اور اس طرح اس کا نام لوگوں کے سامنے آتا رہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج کے الفضل کا ایک صفحہ انچارج بیعت نے ہی لے لیا ہے حالانکہ یہ بات پانچ سطروں میں آجاتی تھی۔یونہی مختلف خانے بنا بنا کر اعلان کو لمبا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ فلاں جماعت کی تھ طرف سے اتنی بیعتیں ہوئی ہیں اور فلاں کی طرف سے اتنی بیعتیں ہوئی ہیں اور پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فلاں جماعت کی طرف سے صفر بیعت ہوئی ہے۔لوگ دس ہیں کو تو گنتے ہیں صفر کونہیں گنتے تم نے کبھی کوئی تاجر ایسا نہیں دیکھا ہوگا جو یہ لکھتا ہو کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک میں دکان پر بیٹھا لیکن کوئی آمد نہ ہوئی۔وہ یہی لکھتا ہے کہ مثلاً دو بجے ایک گا ہک آیا اور دو روپیہ کی آمد ہوئی۔میں بار ہا سمجھا چکا