خطبات محمود (جلد 31) — Page 123
$1950 123 خطبات محمود آ جائے تو گھبرا جاتے ہیں۔اس طرح وہ قسم قسم کی تکالیف اور مصائب جو مومنوں پر آتی ہیں اور جن سے انہیں گھبرانا نہیں چاہیے وہ ان کے پاؤں میں لغزش پیدا کر دیتی ہیں۔پس ہم میں اور اُن میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اُسے انہوں نے سو فیصدی پورا کر دیا سوائے منافقوں کے کہ وہ ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں۔لیکن ہم نے جو کچھ کہا اسے ہم نے سو فیصدی پورا نہیں کیا۔بہر حال جو صحابہ کے حالات تھے وہی ہمارے حالات ہیں۔ہم نے بھی ایک سچائی کو قبول کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس پر قائم رہیں گے اور دشمن سے ڈریں گے نہیں۔اس لئے ہمارا وہ رشتہ دار اور دوست اور ہمسایہ جس کے ہم خیر خواہ ہیں وہ ہم سے اختلاف رکھتا ہے۔اور وہ اس بات پر خوش نہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے اور اُس کی بادشاہت کو ہم اس دنیا میں قائم کر دیں گے۔پس ہم تو اُس کی سے نہیں لڑتے مگر وہ یہ کہتا ہے کہ تمہارا عقیدہ غلط ہے اور میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ تم بے شک نہ لڑو میں تم سے لڑنے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ اپنی پرائیویٹ مجالس اور گفتگوؤں میں وہ صاف طور پر اس امر کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں علماء کی حکومت قائم ہو جائے تو احمدی جماعت کو ختم کر دیا جائے گا۔یہ میں جانتا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ ہے اس لئے باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ شور میں ہی مچاتا ہوں کہ ہماری جماعت میں کئی قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں پھر بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ جب وہ وقت آ گیا جس کی دشمن تیاری کر رہا ہے اور جو ہمیشہ البہی جماعتوں پر آیا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہمارے کمزوروں کو بھی طاقت عطا فرمادے گا اور وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرتے چلے جائیں گے۔لیکن یہ خدا کا فضل ہوگا۔ورنہ جہاں تک ہمیں نظر آتا ہے ہم یہ جانتے ہیں کہ ابھی ہماری جماعت میں کئی قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے میری غیر احمدی بہن آئی اور اس نے مجھ سے رشتہ مانگا تو میں انکار نہ کر سکا۔ایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ شاید اس موقع پر ہماری جماعت کمزوری دکھا جائے۔لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ انبیاء کی جماعتیں چاہے کتنی ہی کمزور ہوں جب دشمن اُن کو مٹانے کے درپے ہوتا ہے تو اُن میں طاقت آجاتی ہے اور وہ اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔بہر حال ہمیں ان آنے والے واقعات کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہیے۔دشمن اپنی تمام تقریروں اور گفتگوؤں اور تنظیموں اور