خطبات محمود (جلد 31) — Page 122
$1950 122 خطبات محمود چاہتی ہے کہ لوگ اسلحہ کا استعمال سیکھیں۔گو ابھی یہاں اتنی آزادی نہیں جتنی یورپین حکومتوں میں ہے۔وہ بہت زیادہ اسلحہ دیتی ہیں اور بہت زیادہ اُن کا استعمال لوگوں کو سکھاتی ہیں۔ہماری حکومت ابھی ڈرتی ہے کہ اگر لوگوں کے پاس اسلحہ چلا گیا تو ممکن ہے فساد ہو جائے یا کسی وقت وہ بغاوت کر دیں۔پس بے شک ابھی اس میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن بہر حال وہ پہلے سے زیادہ ہتھیار دیتی ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ لوگ نیشنل گارڈز وغیرہ میں بھرتی ہو کر فوجی فنون سیکھیں اور موقع آنے پر لڑ سکیں۔دوسرے لوگ اگر اس میں غفلت کرتے ہیں تو کریں کیونکہ وہ نادان اور جاہل ہیں لیکن ہماری جماعت بوجہ دین کو سمجھنے اور روحانیت سے حصہ رکھنے کے خدا تعالیٰ کے فضل سے عالم ہے اور اسے ان چیزوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔پھر علاوہ ان امور کے ہمیں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ حکومت پاکستان ایک نئی حکومت ہے جو دشمنوں سے گھری ہوئی ہے۔واللہ تعالیٰ نے اپنا فضل نازل کر کے خطرہ کو کم کر دیا ہے لیکن ابھی پوری طرح خطرہ دور نہیں ہوا۔جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو جائے اور جب تک افغانستان سے صلح نہ ہو جائے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان جو سمجھو نہ ہوا ہے وہ پورے اطمینان کا موجب ہے۔لیکن فرض کرو یہ سمجھوتہ پورے اطمینان کا موجب ہو جاتا ہے تو پھر بھی ہمارے حالات وہ نہیں جو دوسروں کے ہیں۔اگر کشمیر کا مسئلہ صحیح طور پر حل ہو جائے ، اگر افغانستان اور پاکستان میں صلح ہو جائے، اگر پاکستان اور ہندوستان کے اختلافات سب ختم ہو جائیں تب بھی ہمارا ایک تیسرا دشمن موجود ہے اور وہ ہمارا بھائی ، ہمارا ہمسایہ اور ہمارا رشتہ دار ہے۔جس کا سوائے اس کے ہم نے کوئی قصور نہیں کیا کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے پیغام کو مان لیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ دشمن کی نگاہ میں اُن کا صرف ایک ہی قصور ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے 2۔پس جو قصور صحابہ کا تھا وہی ہمارا ہے۔انہوں نے بھی کہا تھا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس کے سوا ہم کسی اور کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور ہم کسی اور کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔گوہم میں اور ان میں اتنا فرق ضرور ہے کہ صحابہ نے جو کچھ کہا اس پر انہوں نے عمل کر کے دکھا دیا لیکن ہم نے کہا تو وہی کچھ ہے جو صحابہ کہتے تھے مگر ابھی ہم میں بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دوسروں کو اپنا رب سمجھنے لگ جاتے ہیں اور اُن سے ڈر جاتے ہیں۔یا رشتہ داریوں کا سوال