خطبات محمود (جلد 31) — Page 103
$1950 103 خطبات محمود اگر مرنے کے بعد یہ ثابت ہو کہ خدا نہیں تو مجھے کیا نقصان ہے۔لیکن اگر خدا ہو تو مجھے دنیا میں اُس پر ایمان رکھنے سے فائدہ ہی پہنچے گا۔اب آپ ہی بتائیں کہ خدا تعالیٰ پر یقین رکھ کر مجھے فائدہ ہوا یا آپ کو اس پر یقین نہ رکھ کر فائدہ ہوا؟ یہی بات اللہ تعالی بیان فرماتا ہے کہ تَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لَا يَرْجُونَ تم اتنا تو سوچو کہ تمہاری یہ خوش قسمتی ہے کہ تم مرتے ہو تو تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اگر میں بیوی بچوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑتا تو خدا تعالیٰ تو ہے وہی ان کا محافظ و نگران ہو گا۔لیکن ایک دہریہ مرنے لگتا ہے تو کہتا ہے سب تباہ ہو گئے۔وہ ایک ایک بچے اور ایک ایک عزیز کی تصویر سامنے لا کر روتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میری بیوی مرنے کے بعد اور شادی کر لے گی اور بچے تباہ ہو جائیں گے۔لیکن مؤمن مرتا ہے تو سمجھتا ہے میں خدا تعالیٰ کے پاس جارہا ہوں اور وہی ان کا بھی حافظ ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کا بچہ فوت ہو گیا۔اُس نے کوئی صدمہ محسوس نہ کیا بلکہ خوش خوش پھرتی رہی۔لوگوں نے اُسے طعنے دیئے کہ دیکھو اس کا بچہ مر گیا ہے اور اسے کوئی افسوس نہیں۔وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ فرمایا کرتے تھے کہ مومن کو مرنے کے بعد جنت ملے گی اور یہ یہ راحتیں اور آرام ہیں جو اُ سے اخروی زندگی میں میسر ہوں گے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اُس عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی مومن اس دنیا میں ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں رہتا ہے تو اسے اگلے جہان میں ایک عظیم الشان محل مل جائے گا۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس عورت نے کہا اگر یہ سب ٹھیک ہے تو کسی دوسرے کے مرنے پر اس کے رشتہ دار روئیں گے کیوں؟ وہ تو خوش ہوں گے کہ اُن کا رشتہ دار تکلیف و مصائب والی دنیا سے ایک پر امن دنیا میں چلا گیا۔یا رسول اللہ ! میرا بچہ مرگیا اور میں خوش تھی کہ وہ جنت میں گیا ہے لیکن عورتیں مجھے طعنے دیتی ہیں کہ میں نے اپنے بچے کی وفات پر کوئی افسوس نہیں کیا۔یا رسول اللہ میں اس کی وفات پر روؤں کیوں ، میرے لئے تو یہ خوشی کا مقام ہے کہ وہ دنیا کے دکھوں سے نجات پا گیا اور اس نے ابدی زندگی حاصل کر لی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ عورت اس فلسفہ کو ا کسٹریم (Extereme) تک لے گئی۔لیکن اس سے ایک بات یہ بھی نکلتی ہے کہ بعض دفعہ خود رونا بھی خوشی کا رونا ہوتا ہے۔جیسے ایک عرب شاعر کہتا ہے کہ میری آنکھوں کو رونے کی عادت پڑ گئی ہے۔خوشی کا وقت ہو تب بھی وہ روتی ہیں اور غمی کا وقت ہو تب بھی وہ روتی ہیں۔لیکن اتنی بات بہر حال درست ہے کہ جو شخص نیکی کی حالت