خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 419

$ 1949 419 خطبات محمود کھلاتی۔اس خیال کے آنے پر مجھ پر ایسی حالت طاری ہوگئی کہ مجھ سے یہ لقمہ نگلا نہیں گیا۔اس لیے کہ یہ نرم اور ملائم آٹا سے بنی ہوئی چپاتی میں اکیلی ہی کھا رہی ہوں۔منطق کے لحاظ سے یہ فضول بات تھی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے پاس تھے اور آپ وہ کچھ کھا رہے تھے جو دنیا کا امیر سے امیر آدمی بھی نہیں کھا سکتا۔یہ بالکل غیر عقلی اور مالی غیر شرعی بات بھی تھی کیونکہ خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ جنت میں مومنوں کو وہ کچھ ملے گا جس کا دنیا کے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔لیکن قانون محبت کے لحاظ سے وہ ایک ہی درست بات تھی جو حضرت عائشہ نے کی کی منطق کے لحاظ سے وہ فضول بات تھی ،عقل کے لحاظ سے وہ لغو بات تھی اور شریعت کے لحاظ سے قابل حیرت۔مگر محبت کے لحاظ سے یہی اور یہی ایک صحیح اور سچا فیصلہ تھا جس کے مقابلہ میں کوئی اور فیصلہ نہیں ہو سکتا۔پس میں آپ لوگوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں وہ روٹی بھی شامل ہے جو ہم کھاتے ہیں۔ہمیں بھی چاہیے کہ جلسہ کے دنوں میں اپنے لیے جو چیزیں ہی ضروری ہوں ان میں سے کچھ جلسہ کی امداد کے لیے دیں۔ربوہ کی آبادی اور کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے میری تجویز ہے کہ یہاں کے رہنے والے پچھتر من گندم بطور چندہ کے دیں۔پچھتر من کے معنے ہیں تین ہزار سیر۔اور ربوہ کی ایک ہزار سے زیادہ کی آبادی ہے۔گویا تین سیر فی کس بن جاتے ہیں۔یہ قریباً اتنی ہی گندم ہے جتنی لنگر میں کام کر کے کھانے والے خود استعمال کر لیتے ہیں۔پس ایک لحاظ سے تو یہ وہی گندم ہے جو جلسہ کے دنوں میں کام کرنے والوں میں سے اکثر کھائیں گے ( میں نے اکثر کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ بعض لوگ باوجود جلسہ کے دنوں میں کام کرنے کے کھانا گھر میں تیار کرتے ہیں) لیکن دوسری طرف یہ محبت کی علامت اور ثبوت ہوگا کہ جلسہ پر آنے والے مہمان جب اس آٹے میں سے جو ہم خود استعمال کرتے ہیں کچھ پہلے نہ کھالیں ہمیں تسلی نہیں ہو سکتی۔بلکہ یہ تو کیا خواہ تم ایک دمڑی کی قیمت کے برابر ہی کوئی چیز دو لیکن محبت کہتی ہے کہ ان سب چیزوں سے حصہ دوجو تم گھر میں استعمال کرتے ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چندہ کی تحریک کی۔ایک صحابی جو کی دو مٹھیاں ائے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں۔منافق ہنسے اور کہا دنیا بو کی