خطبات محمود (جلد 30) — Page 420
* 1949 420 خطبات محمود ان دو مٹھیوں سے فتح ہو رہی ہے۔بعض لوگوں نے اپنے گھر کا سارا سامان ہی باہر لا کر رکھ دیا۔اس پر ا منافق لوگوں نے کہا یہ سب دکھاوا ہے۔4 گویا کسی کے متعلق انہوں نے یہ کہا کہ بھلا اس سے دنیا فتح ہوسکتی ہے اور کسی پر انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ دکھاوے کے لیے ہے۔منافقین کا تو قاعدہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مومنوں کی ہر حرکت پر اعتراض کرتے ہیں اور یہی منافق کی سب سے بڑی علامت ہے۔لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ دنیا بو کی انہی مٹھیوں سے فتح ہوئی جو اُس وقت چندہ میں دی گئیں۔اگر وہ نہ ہوتیں تو دنیا یقینا فتح نہیں ہو سکتی تھی۔اگر وہ نہ ہوتیں تو یقیناً اسلام نہ پھیلتا۔وہ جو کی دو سٹھیاں نہیں تھیں وہ اسلام کی محبت میں گرنے والے دل کے خون کے قطرے تھے اور دل کے خون کے قطروں سے ہی دنیا فتح ہوا کرتی ہے دنیاوی سامانوں سے نہیں۔پس محبت کی علامت تو یہ ہے کہ تم جو کچھ گھروں میں کھاتے ہو اُس میں سے کچھ حصہ بطور چنده دوخواہ وہ کتناہی قلیل ہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے اوپر بوجھ ڈال لو بلکہ میں کہتا ہوں تم مٹی کے تیل کا جو تم گھر میں جلاتے ہو ایک تولہ دے آؤ اور کہو یہ تیل ہم گھر میں جلاتے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ اس میں سے بھی ہم ایک حصہ بطور چندہ نہ دیں۔تم ایک تولہ کا نصف حصہ گھی دے آؤ اور کہو کہ ہم گھر میں گھی سے روٹی کھاتے ہیں اس لیے اس سے بھی کچھ حصہ بطور چندہ لے لیا جائے۔تم گوبھی کا ایک ڈنٹھل ہی کاٹ کر لے آؤ اور کہو یہ گو بھی ہم نے پکانی تھی اس لیے ہے ہم نہیں چاہتے کہ جب تک اس میں سے مہمانوں کے لیے حصہ نہ نکال لیا جائے اسے کھا ئیں۔کیونکہ محبت کی یہ علامت ہے کہ جب تک محبوب کوئی چیز استعمال نہ کر لے چین نہیں آیا کرتا۔خدا تعالیٰ جس سے زیادہ سچا اور کوئی نہیں اپنے رسول کی زبانی کہتا ہے کہ جس نے میرے ادنیٰ سے ادنی بندے کو جو بھوکا تھا کھانا کھلایا اس نے مجھے ہی کھلایا۔پس تم خواہ مٹی کے تیل کا ایک چمچہ ہی دو، تم خواہ گھی کی ایک رتی ہی دو تم وہ تیل خدا تعالیٰ کو دیتے ہو، تم وہ گھی خدا تعالیٰ کو کھلاتے ہو۔کیونکہ اُس نے خود فیصلہ کیا ہے کہ گو میں محتاج نہیں ہوں لیکن جب تم میرے محتاج بندے کو کھلاتے ہو تو تم مجھے ہی کھلاتے ہو“۔(الفضل 26 فروری 1950ء) 1 : اربع : ( حساب) تین عددوں یا رقموں کی مدد سے چوتھا غیر معلوم عدد یا رقم دریافت کرنے کا قاعده ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 1 صفحہ 394۔کراچی 2006ء) 2 : البقرة: 4