خطبات محمود (جلد 30) — Page 418
$1949 418 خطبات محمود تو کچھ چکیاں مدینہ میں بھی لگائی گئیں۔جب آٹا پیسا گیا تو وہ بہت نرم تھا۔اس قسم کے آٹے کا مدینہ میں رواج نہ تھا۔ان کے ہاں چھوٹی چھوٹی چکیاں ہوتی تھیں جن کے ذریعہ وہ آٹا بناتے تھے۔ان کے لیے ہوائی چکیاں ایسی ہی تھیں جیسے آجکل کے لوگوں کے لیے ہوائی جہاز ہیں۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ جو آٹا پہلے تیار ہو وہ حضرت عائشہ کے گھر بھجوایا جائے۔دیکھو! یہ بھی محبت کی علامت تھی۔اس آئے کی کا حضرت عائشہ کے ساتھ کیا تعلق تھا۔منطق یہ کہتی ہے کہ ہوائی چکیاں حکومت نے لگوائی تھیں اور آئے کا تعلق حکومت سے تھا اس لیے آٹا پہلے حکومت کو ملنا چاہیے۔مگر محبت یہ نہیں کہتی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جو چکی لایا ہے یا جو اس کا نگران ہے یا جو وقت کا حاکم ہے اس کے گھر پہلے آٹا نہیں بھیجا جائے گا۔یہ آٹا حضرت عائشہ کے گھر بھیجا جائے گا کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیوی تھیں۔کوئی منطق اس حکم کی تائید نہیں کرتی۔صرف محبت کا قانون اس کی تائید کرتا ہے۔حضرت عائشہ کے گھر میں جب آٹا پہنچا تو محلہ کی سب عورتیں آنا دیکھنے کے لیے جمع ہوگئیں۔کیونکہ ان کے لیے وہ عجیب چیز تھا۔ہے وہ تو چھوٹی چھوٹی چکیوں میں غلہ پیس کر آٹا بناتی تھیں۔اس نرم اور ملائم آئے کا ان میں رواج نہیں تھا تو اس لیے اردگرد کی مستورات آٹا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئیں۔روٹی پکنی شروع ہوئی اور ایک پتلا سا پھلکا تیار کر کے حضرت عائشہ کے آگے رکھا گیا۔حضرت عائشہ نے اس میں سے ایک لقمہ بنایا اور منہ میں ڈالا لیکن منہ میں ڈال کر تھوڑی دیر چبانے کے بعد آپ رُک گئیں اور آپ کی آنکھوں میں سے آنسو بہنے لگے اور تھوڑی دیر کے بعد آپ نے وہ لقمہ باہر پھینک دیا۔عورتیں جو آٹا دیکھنے کے لیے وہاں جمع کی ہوگئی تھیں انہوں نے آٹے پر ہاتھ مارنا شروع کیا اور وہ حیران ہوئیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے حضرت عائشہ نے لقمہ پھینک دیا۔انہوں نے کہا اے ہماری سردار ! یہ تو نہایت نرم اور ملائم آتا ہے۔آپ کو اس نے کیوں تکلیف دی۔حضرت عائشہ نے فرمایا اس آٹے نے مجھے اس لیے تکلیف نہیں دیتی کہ یہ نرم اور ملائم نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے تکلیف دی ہے کہ یہ نرم اور ملائم ہے۔پھر فرمایا رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنی اچھی چکیاں بھی نہیں تھیں جتنی اب ہیں۔ہم پتھروں سے کچل کر آٹا بناتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بڑی عمر کو پہنچے اور آپ کے دانت کمزور ہو گئے تو بعض دفعہ لقمہ چبانے میں آپ وقت محسوس کیا کرتے تھے۔اب جو لقمہ منہ میں گیا تو یکدم مجھے یہ خیال آیا کہ اگر یہ آٹا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو میں اس کی روٹی بنا کر آپ کو