خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 417

خطبات محمود 417 $ 1949 غرض عاشق مومن یہ خیال نہیں کرتے کہ انہوں نے چندہ ادا کر دیا ہے اور سلسلہ کی خدمت سے آزاد ہو گئے ہیں یا کچھ رقم بطور نذرانہ خلیفہ وقت کو دے دی ہے اور انہوں نے اپنے تعلق کا اظہار کر دیا ہے بلکہ وہ تو ان کو ہر وقت یادرکھتے ہیں اور اپنی ہر خوشی میں ان کو شریک کرتے ہیں۔غرض جہاں محبت ہوتی ہے وہاں منطقی نظریہ کام نہیں دیتا۔مِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ میں خدا تعالیٰ نے اس من طرف توجہ دلائی ہے کہ تم کسی کو کتنی بھی چیز دے دو وہ محبت پر دلالت نہیں کرتی بلکہ وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمہیں اس کی اہمیت معلوم ہے اور اہمیت اور محبت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔مثلاً افسر کی اہمیت تمہیں معلوم ہے۔بسا اوقات تم اپنے بیوی بچے سے بھی زیادہ اُس کی خدمت کرتے ہولیکن اُس کی خدمت اہمیت والی ہوگی محبت والی نہیں ہو گی۔مثلاً اس کی آمد پر تم سو روپیہ خرچ کر دیتے ہو لیکن تم غریب ہو اس لیے اپنے بچے پر تم مثلاً صرف پانچ روپے ماہوار خرچ کرتے ہومگر جب چنے نکلیں گے اور خول میں دانہ پڑے گا تو تم کبھی بھی یہ خیال نہیں کرو گے کہ یہ دانہ افسر کو بھی کھلاؤ۔ہاں! تمہاری یہ خواہش ضرور ہوگی کہ یہ دانہ تم اپنے بچوں کو کھلا ؤ حالانکہ تم نے افسر کی آمد پر اس کی خدمت کی کے لیے سو روپیہ خرچ کر دیا تھا اور بچے پر تم صرف پانچ روپیہ خرچ کرتے ہو۔یا نرم نرم مولیاں نکلتی ہیں تو تم چند مولیاں لے لیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ منے کے لیے ہیں اور یہ مٹنے کی اماں کے لیے ہیں۔تم یہ کبھی بھی خیال نہیں کرتے کہ میں انہیں روپیہ دے چکا ہوں اب اور چیزیں لے جانے کی کیا ضرورت کی ہے۔کیونکہ محبت کا یہ اصول ہے کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ تمہیں جو چیز بھی ملتی ہے تم کہتے ہو؟ میں اپنے بیوی بچوں کے لیے بھی لے جاؤں۔حضرت عائشہ کے متعلق آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ہوائی چکیاں درآمد کی گئیں بقیہ حاشیہ: کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ عزیز پر اپنے بہت فضل نازل فرمائے۔میں جب عزیز کا جنازہ پڑھنے لگا تو اس میں بھی میں نے یہ دعا کی کہ اے اللہ! یہ کوئی اچھی چیز خود نہ کھاتا تھا جب تک کہ ہمیں نہ کھلا لیتا تھا۔اب تو بھی اپنی جنت کی اچھی اچھی چیزیں ہماری طرف سے اسے کھیلا تا کہ ہماری خدمت کا بدلہ اسے ملے۔عجیب تر بات یہ ہے کہ عزیز کوئٹہ سے آتے ہوئے دو بکس پھلوں کے میرے لیے اب بھی لایا تھا۔وہ اس کی لاش کے ساتھ لاہور سے لائے گئے اور آج صبح اس کے بھائی نے اندر بھیجوائے۔رَحِمَ اللهُ الْمُحِبَّ الْمُخْلِصَ وَجَعَلَ مَثْوَاهُ فِى الْمُخْلَصِيْنَ مِنْ عِبَادِه۔-