خطبات محمود (جلد 30) — Page 416
$ 1949 416 خطبات محمود ہمارے ذمہ صرف اپنے بیوی بچوں کی پرورش ہے۔یہ حالت بڑی ہی بدقسمتی اور بداخلاقی کی علامہ ہے۔لیکن اس منطقی زمانہ میں یہی صورت قائم ہو چکی ہے اس لیے میں اصل مثال نہیں دے سکتا۔لیکن میں کہتا ہوں تم اپنے بچہ کو ہی لے لو تم اپنے بچہ کے لیے خرچ مقرر کرتے ہو اور اپنی بیوی کو دیتے ہولیکن کیا تم یہ کہتے ہو کہ میں نے اور کیا دینا ہے سارے مہینہ کا خرچ ایک ہی دفعہ جو بیوی کو دے دیا۔کیا ایسا ہی نہیں ہوتا کہ تم بازار میں جاتے ہو اور کھانے کے لیے کچھ مٹھائی خرید لیتے ہو تو تم وہ مٹھائی زیادہ مقدار میں خرید لیتے ہو ،تا اپنے بیوی بچوں کے لیے بھی لے جاؤ، تم یہ تو نہیں کہتے کہ میں نے روپے دے دیئے ہیں اب مٹھائی لے جانے کی کیا ضرورت ہے۔یا مثلاً تم کوئی کپڑا خریدتے ہو تو وہ کچھ زیادہ خرید لیتے ہو، تا بیوی بچوں کے لباس کا کچھ حصہ بنا لیا جائے۔تم کبھی بھی یہ منطقی نتیجہ نہیں نکالتے کہ میں نے کی ایک دفعہ روپیہ دے دیا ہے اب میں نے اور خرچ نہیں کرنا۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے انسان ایسے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہم جب باہر جاتے ہیں تو کئی لوگ اپنی محبت کی وجہ سے بعض اخراجات کی ہم پر کرتے ہیں۔مثلاً میں دو سال سے کوئٹہ جاتا رہا ہوں۔وہاں ہمارے ہی ضلع کے ایک دوست ڈاکٹر غفور الحق خان صاحب ہیں۔میں نے دونوں سال تجربہ کیا ہے کہ وہ جب کوئی چیز گھر لے جاتے ہی تھے تو اس کی ایک ٹوکری ہمیں بھی بھیج دیتے تھے۔مثلاً انگور نکلنے شروع ہوئے اور انہوں نے بازار سے گھر کے لیے کچھ انگور خریدے تو ایک ٹوکری زائد خرید کر وہ ہمارے لیے بھی بھیج دیں گے۔یا خربوزے نکلے اور انہوں نے اپنے استعمال کے لیے کچھ خربوزے خریدے ہیں تو کچھ خربوزے وہ ہمیں بھی بھیج دیں گے۔وہ چیز میں اس طرح متواتر آتی تھیں کہ ہم سمجھتے تھے کہ وہ اپنے گھر لے جا رہے تھے کہ ہماری محبت کی وجہ سے انہوں نے ہمیں بھی اس میں سے ایک حصہ بھیج دیا۔جی اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے۔یہ خطبہ میں نے دسمبر کے شروع میں دیا لیکن چھپنے سے رہ گیا۔آج ہی اس پر نظر ثانی کرنے لگا ہوں جبکہ ابھی ابھی ہی عزیزم ڈاکٹر غفور الحق خاں کو دفنا کر کوٹا ہوں۔میں اسے اتفاق نہیں کہہ سکتا۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے جس نے آج مجھے اسی خطبہ پر نظر ثانی کا موقع دیا۔عزیز زندہ ہوتا تو اسے پڑھ کر کتنا خوش ہوتا مگر اب اس کے عزیز ا سے پڑھ کر خوش ہوں گے کہ ان کے عزیز کو خدا تعالیٰ نے جوڑ تبہ بخشا کہ اس کا ذکر اس محبت کے ساتھ ایک قائم رہنے والے نشان میں شامل