خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 412

$ 1949 412 خطبات محمود ممکن ہے کہ بعض جماعتوں کی طرف سے جواب بھی آیا ہو لیکن مجھے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہے ہوا۔ہمارے ملک میں گندم کی پیداوار کی اوسط پندرہ من فی ایکڑ تک ہو جاتی ہے۔بعض علاقوں میں کم بھی ہوتی ہے اور بعض علاقوں میں زیادہ۔مشرقی پنجاب میں گندم کی پیداوار کی اوسط کم تھی۔اس کے مقابلہ میں مغربی پنجاب میں گندم کی پیداوار کی اوسط زیادہ ہے۔مشرقی پنجاب کے مغربی پنجاب سے الگ ہو جانے کی وجہ سے مغربی پنجاب کی گندم کی پیداوار کی اوسط بڑھ گئی ہے۔اور چونکہ اس علاقہ میں نہریں کثرت سے ہیں اس لیے مشرقی پنجاب کی نسبت مغربی پنجاب میں گندم کی پیداوار زیادہ ہے۔نہری علاقوں میں پچیس من فی ایکٹر تک اوسط نکل جاتی ہے اس لیے پندرہ من گندم فی ایکٹر کی اوسط لگا نا کوئی بعید بات نہیں۔اگر اس حساب سے گندم کی پیداوار ہو اور ایک ایکڑ کی پیداوار سے دوسیر گندم جلسہ سالانہ کے اخراجات میں بطور امداد دی جائے تو یہ گندم قریباً اٹھارہ سیر فی مربع بن جاتی ނ ہے۔اچھے مربع والوں کی گندم ڈیڑھ سو سے اڑھائی سو من فی مربع پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں۔اٹھارہ سیر گندم کا ادا کرنا کسی قسم کی قربانی نہیں کہلا سکتا۔اگر ہماری جماعت کی مقبوضہ زمین مغربی پنجاب کی مثلاً دو ہزار مربع مجھی جائے۔اگر چہ وہ یقیناً اس سے زیادہ ہے تو یہ چھتیس ہزار سیر گندم ہو جاتی ہے یا ایک عام اندازہ کے مطابق کوئی نوسو من۔ہمارے جلسہ سالانہ کا گندم کا خرچ قادیان میں دو ہزار من تک ہوا کرتا تھا۔ابھی چونکہ اتنے آدمی آنے کی امید نہیں کی جاسکتی جتنے آدمی قادیان میں آخری جلسوں پر آجایا کرتے تھے اس لیے اس سال کوئی پندرہ سوئن گندم کا اندازہ ہے۔اگر جماعتیں چندہ کے طور پر دوسیر فی ایکڑ کے حساب سے گندم بطور امداد جلسہ سالانہ کے اخراجات کے لیے دے دیں تو ہمارے پاس نو سو من گندم جمع ہو جاتی ہے۔اور اتنی مقدار میں گندم بطور چندہ دینا کوئی بوجھ نہیں کہلا سکتا اس سے زیادہ گندم تو فقیروں کو دے دی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ یا کسی رشتہ دار کو دینے کا تو کوئی سوال ہی کی نہیں۔اس مقدار سے زیادہ گندم ایک شریف انسان فقیروں کو دے دیتا ہے اور ہر شریف انسان کو ایسا ہے کرنا چاہیے۔لیکن پہلے سال کے تجربہ کے لیے میں نے زمیندارہ جماعتوں میں چار پانچ سو من گندم کے لیے تحریک کی ہے اور ساتھ ہی میں نے یہ بھی تحریک کی ہے کہ یہ گندم چندہ جلسہ سالانہ میں شامل نہیں ہوگی۔موجودہ جنس سے کچھ حصہ بطور امداد دے دینا چندہ کا حصہ نہیں ہوسکتا۔میں ربوہ کے ساکنوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہم لوگ میزبان ہیں اور باہر سے آنے والے