خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 383

* 1949 383 خطبات محمود شروع ہو جاتا تھا۔اس سے میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ بیماری ایسی ہے کہ لیٹنے سے تکلیف دیتی ہے ہے۔اس خیال کے آنے پر میں نے اپنی ایک بیوی سے کہا کہ ہومیو پیتھک کی فلاں کتاب نکالو۔ایسی باتیں ہومیو پیتھک کی کتابوں میں زیادہ لکھی ہوئی ہوتی ہیں ایلو پیتھک یا یونانی طب میں یہ باتیں نہیں ہے پائی جاتیں۔میں نے اپنی بیوی سے کہا جو مرض لیٹنے سے اور رات کے وقت زیادہ ہوتی ہے اس علامت کی کی دوائیں نکالو۔کتاب میں ایک ایک علامت کے آگے آٹھ آٹھ ، دس دس دوائیں لکھی ہوئی ہوتی ہے ہیں۔انہوں نے وہ دوائیں پڑھنی شروع کیں۔جو دوائیں ایک جگہ لکھی ہوئی تھیں وہ دوسری جگہ لکھی ہوئی نہیں تھیں۔یعنی اگر لیٹنے سے تکلیف دینے والی امراض کی علامات میں اُن کا ذکر تھا تو رات کو تکلیف دینے والی امراض کی علامات میں اُن کا ذکر نہیں تھا اور اگر رات کو تکلیف دینے والی امراض کی علامات میں ان کا ذکر تھا تو لیٹنے سے تکلیف دینے والی امراض کی علامات میں ان کا ذکر نہیں تھا۔پڑھتے پڑھتے ایک دوائی کا نام آیا جس کا ذکر دونوں جگہوں پر آتا تھا اور وہ آرسینک تھا۔علامات میں یہ لکھا تھا کہ جب نزلہ ہو، آنکھوں سے پانی بہتا ہو خصوصاً جب وہ پانی تیزابی مادہ والا ہو اور لیٹنے سے تکلیف ہوتی ہو ، رات کو تکلیف بڑھ جاتی ہو تو یہ دوا مفید ہے۔اتفاقاً جب پچھلے سال میں کوئٹہ گیا تو ایک دوست ہومیو پیتھک کی چند دوائیں مجھے دے گئے۔انہیں وہ دوا ئیں اپنے مکان سے ملی تھیں جو ایک ہندو کا تھا جو اُسے چھوڑ گیا تھا۔ان دواؤں میں ایک شیشی میں آرسینک کی بھی چھپیں تمھیں گولیاں تھیں جو اب تک پڑی ہوئی تھیں۔میں نے وہ دوائی کھائی تو تھوڑی دیر کے بعد ہی درد جاتا رہا اور ساری رات آرام رہا۔صبح آنکھیں بھی کھلنے لگ گئیں اور کچھ روشنی کی بھی برداشت ہونے لگی۔غرض بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایسے سامان کر دیتا ہے کہ مایوسی کی حالت آرام سے بدل جاتی ہے۔میں جب جمعہ پڑھانے کے لیے آتا ہوں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چلتے چلتے یا مسجد میں آکر جو مضمون ذہن میں آجائے اُس پر خطبہ دے دیتا ہوں۔عام طور پر گھر سے مضمون سوچ کر نہیں آتا۔لیکن آج کا خطبہ دیر سے میرے مدنظر تھا بلکہ لاہور سے آنے سے پہلے میرے مدنظر تھا لیکن گزشتہ خطبہ جمعہ چونکہ میں نے سرگودھا میں پڑھا تھا اس لیے یہ مضمون بیان نہ کر سکا۔اگر چہ اس مضمون کو مفصل بیان کرنے کی ضرورت ہے اور آج میں بیمار ہونے کی وجہ سے مختصر خطبہ ہی پڑھ سکتا ہوں تا مرض عود نہ کر آئے لیکن یہ مضمون بھی نہایت ضروری ہے اور کسی اور دن ملتوی نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس لیے ہے