خطبات محمود (جلد 30) — Page 384
خطبات محمود 384 * 1949 بجائے اس کے کہ میں اسے ملتوی کروں نسبتاً اختصار کے ساتھ بیان کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اور حضرت کی موسی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی مومنوں کے ساتھ ساتھ ایک گروہ منافقوں کا بھی پایا جاتا تھا۔حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِینَ اذَوْا مُوسى 1 وہ لوگ جنہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دکھ دیا۔یہ لوگ کون تھے؟ وہی منافق تھے جو ان کی جماعت میں پائے جاتے تھے۔پھر فرماتا ہے جب حضرت موسی علیہ السلام پہاڑ پر اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ کے روحانی دشمنوں نے آپ کے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنالیا اور اسے پوجنا شروع کر دیا۔2 اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام اور آپ کی قوم کے بعض لوگوں میں اور بھی کئی اختلافات کا ذکر آتا ہے۔مثلاً یہ کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حضرت موسی علیہ السلام سے لڑنے لگ جاتے تھے۔یہاں تک کہ جب موعودہ علاقہ فتح ہونے لگا اور حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ جاؤ اور لڑائی کر کے اس علاقہ کو فتح کر لو تو منافقوں نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ ہم کیوں لڑیں؟ بعض مومن بھی کی اس گروہ کے ساتھ مل گئے کیونکہ قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص بات کرتا ہے تو بعض کمزور طبائع بھی ساتھ مل جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام کے وقت میں جب منافقوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ ہم کیوں لڑیں؟ تو بعض مومن بھی اُن کے ساتھ مل گئے اور حضرت موسی علیہ السلام سے کہنے لگے فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ 3 موسی یہ تو بتاؤ کہ جب تم ہمیں ہمارے ملک سے نکال کر لائے تھے تو یہ کہہ کر لائے تھے کہ ہم فلاں ملک تمہیں دیں گے۔تم نے ہی یہ کہا تھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں فلاں ملک دینے کا وعدہ کیا ہے۔کہنے والے تم تھے وعدہ کرنے والا خدا تھا اور ی لڑتے پھریں ہم۔یہ نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں دینے کا وعدہ کیا تھا اور تم کہتے تھے کہ اس نے ایسا وعدہ کیا ہے اس لیے فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ تم دونوں وعدہ کرنے والے لڑتے پھرو۔ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ملک فتح ہو جائے گا تو ہم وہاں چلے جائیں گے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہوا۔منافق لوگ اُٹھتے تھے اور اسلام کے خلاف ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف، صحابہ کے خلاف اور خواتین اسلام کے خلاف باتیں بناتے تھے۔شروع شروع میں وہ کچھ دوسرے لوگوں کو سامنے رکھ لیتے تھے اور پھر ترقی کرتے کرتے