خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 343

خطبات محمود 343 $1949 پس اصل چیز یہی ہے کہ اپنے اندر عزم پیدا کر و۔جب ہماری جماعت کے نوجوان یہ فیصلہ کی کر لیں گے کہ ہم میں سے ہر شخص سلسلہ کا ذمہ دار ہے تو کیا وہ لوگ جنہوں نے ساری دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے وہ اپنے محلہ کو فتح نہیں کر سکیں گے؟ اپنے گاؤں یا اپنے شہر کو فتح نہیں کر سکیں گے؟ جب ہماری جماعت کے نوجوان یہ عزم کر لیں گے کہ ہم دنیا کو فتح کریں گے تو ساری دنیا کو فتح کرنے میں تو کچھ دیر لگے گی وہ اپنے محلہ اور اپنے شہر کو نہیں چھوڑیں گے اور اُسے جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے۔اور جب وہ اپنے محلہ اور شہر والوں کو جھنجھوڑ دیں گے تو جن لوگوں کے دلوں میں ایمان ہوگا وہ بیدار ہو جائیں گے اور وہ بھی ہر قسم کی قربانیوں کے لیے تیار ہو جائیں گے۔پس اپنی ذمہ داری کو سمجھو اور وقت کی نزاکت کا احساس کرو۔میں بتا چکا ہوں کہ یہ خطبہ صرف لاہور کی جماعت کے لیے نہیں باہر کی جماعتوں کے لیے بھی ہے۔اس لیے میں ہر جگہ کے نو جوانوں اور احمدیوں سے کہتا ہوں کہ جو تمہارے کارکن ہیں تم اُن کو ہوشیار کرو کیونکہ وہ ہوشیار نہ ہوں تو پھر ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس نازک وقت میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے آگے آئے اور سیکرٹری کا کام کی خودسرانجام دے۔اگر اس وقت ہماری مالی حالت درست نہ ہوئی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ چار پانچ سال تک ہم پچھلے قرضہ کو اُتارنے میں ہی لگے رہیں گے اور نیا کام نہیں کر سکیں گے۔پس یہ ایک نہایت ہی نازک وقت ہے۔اس نازک وقت کی اہمیت کو محسوس کرو اور اپنے فرض کی طرف توجہ کرو۔اور وقت کی نزاکت کا تم اس سے اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ پیشگوئی جو چار ہزار سال سے چلی آرہی ہے کہ ایک زمانہ میں یا جوج اور ماجوج کی لڑائی ہونے والی ہے وہ وقت اب آنے ہی والا ہے۔اس وقت کو اگر ہم نے ضائع کر دیا اور اپنی ترقی کی کوئی کوشش نہ کی تو اس سے زیادہ ظلم اور کوئی نہیں ہوگا۔پس وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہر شخص کھڑا ہو جائے اور قطع نظر اس سے کہ سیکرٹری کون ہے اور پریذیڈنٹ کون وہ خود ای کام کرنے لگ جائے۔یقینا اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایمان بخشا ہے اور یقینا یہ غفلت محض اس وجہ سے واقع ہوتی ہے کہ جماعتوں کو خطوں کے جوابات نہیں گئے۔چندے بھیجے تو اُن کی رسیدیں نہیں گئیں۔روپے بھیجے تو وہ ڈاکخانہ میں ہی پڑے رہے۔اور چونکہ منی آرڈروں کی انہیں رسید نہ ملی اس لیے انہوں نے کہا کہ اگلا چندہ ہم تب بھیجیں گے جب پہلے چندہ کی رسید آ جائے گی اور چونکہ رسیدیں بھیجنے میں زیادہ دیر ہوگئی اس لیے انہوں نے چندہ وصول ہی نہ کیا اور جب لوگوں سے چندہ وصول نہ کیا ہے