خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 342

* 1949 342 خطبات محمود کی طاقت نہیں رکھتے تو دل میں ہی برا مناؤ مر فرمایا یہ ادنی درجے کا ایمان ہے اور ادنی درجہ کا ایمان کوئی ہے خوشی کی چیز نہیں ہو سکتا۔مومن کو تو ایسا مقام حاصل کرنا چاہیے کہ نہ صرف اُس کا اپنا ایمان مضبوط ہو بلکہ دوسروں کے ایمان کو بھی وہ مضبوط کرنے والا ہو۔پس اگر جماعتوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو مخلصین سے کہتا ہوں کہ تم ہمت کرو ، آگے بڑھو اور انکی کمزوری کو تبلیغ اور ارشاد کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کرو۔اور پھر جو کمی اُن کے ارتداد سے سلسلے کے اموال میں ہو اُس کو خود اپنے چندے بڑھا کر پورا کرو۔یہ کوئی سوال نہیں کہ سیکرٹری کون ہے اور پریذیڈنٹ کون۔دیکھو! وہ ہمارے مرکزی سیکرٹری ہی تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم اتنا مال جمع نہیں کر سکتے کہ مبلغوں کو اخراجات کے لیے روپیہ دے سکیں مگر ہمارے نوجوانوں نے کہا کہ آپ لوگ اگر ہمیں روپیہ نہیں بھجواتے تو بیشک نہ بھجوائیں ہم ٹوکریاں اٹھا ئیں گے اور اپنے لیے آپ گزارہ پیدا کریں گے اور انہوں نے ایسا کر کے دکھا دیا۔اسی طرح مقامی جماعتوں کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ اگر کام نہیں کرتے تو تم خود افراد جماعت کو بیدار کرو اور اُن کے اندر ایک نئی زندگی اور نئی روح پیدا کرنے کی لالی کوشش کرو۔یہ بیداری کا وقت ہے۔یہ کام کرنے کا وقت ہے، یہ سونے اور غافل ہو جانے کا وقت نہیں۔تم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو سیکرٹری اور پریذیڈنٹ سمجھے اور تم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو سلسلے کا ذمہ دار سمجھے۔جب تم میں سے ہر شخص کا ایمان اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ وہ سمجھے گا کہ سلسلہ کی عمارت کا بوجھ مجھ پر ہی ہے، میں ہی وہ ستون ہوں جس پر احمدیت کی کی چھت قائم ہے۔اگر میں ہلا تو احمدیت بھی ہل جائے گی۔تب تمہیں وہ مقام میسر آ جائے گا کہ کوئی آفت تمہارے سر کو نیچا نہیں کر سکے گی ، کوئی مصیبت تمہارے قدموں کو ڈگمگا نہیں سکے گی اور کوئی ابتلائے تمہیں ہراساں نہیں کر سکے گا۔کیونکہ تم میں سے ہر شخص ایک چھوٹا نمونہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوگا اور تم سمجھو گے کہ کام ہم نے کرنا ہے کسی اور نے نہیں کرنا۔اور جب کسی جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں تو وہ جماعت کبھی مِٹ نہیں سکتی۔اگر اس عزم کے ساتھ گیارہ آدمی بھی کھڑے ہو جائیں اور ی ان میں سے دس مر جائیں تو باقی رہنے والا ایک آدمی پھر اُن دس مرنے والوں کو زندہ کر دے گا۔اگر اس عزم کے ساتھ نو سو ننانوے آدمی کھڑے ہو جائیں اور نو سو جگہ قیامت آ جائے تو ننانوے آدمی پھر باقی نوسو جگہوں کو زندہ کر لیں لگے۔