خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 338

* 1949 338 خطبات محمود کس طرح مقرر کیا جاسکتا ہے۔ایک وہ ہے جو برابر مومن رہا اور ایمان کی حالت پر قائم رہا اور ایک وہ ہے جو مرتد ہو جاتا ہے اور صداقت کو دیکھ کر اور اسے قبول کر کے پھر اس سے روگردان ہو جاتا ہے۔مگر جب واپس آتا ہے تو سفارشیں کرنے والے آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں اسے مومنوں کا سردار مقرر کر دیا جائے۔میری عقل میں تو یہ بات نہیں آسکتی کہ اسے مومنوں کا افسر کس طرح مقرر کیا جا سکتا ہے۔چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے درجہ کے مومن ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمر بعد میں آئے اور وہ مومنوں کے سردار بن گئے مگر عمر نے کفر کی حالت سے نکل کر اسلام قبول کیا تھا۔ان پر اس سے پہلے حجت تمام نہیں ہوئی تھی ، انہوں نے نور کو دیکھا نہیں تھا، انہوں نے اسلام کی صداقت کو پرکھا نہیں تھا۔جب انہوں نے اس نور کا مشاہدہ کیا ، جب انہوں نے اسلام کی صداقت کو پر کھا ، جب انہوں نے کفر کو ترک کر کے اسلام قبول کیا تو چونکہ ان میں قابلیت موجود تھی اس لیے وہ مومنوں کے سردار بن گئے۔لیکن مرتد تو وہ ہے جو اسلام کے نور کو دیکھ چکا، اس کی صداقت کو پر کچھ چکا، اس کی غلامی کو اختیار کر چکا۔اگر وہ گرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کا کیریکٹر کمزور ہے۔اور جس کا کیریکٹر کمزور ہے اس کو مومنوں کا سردار بنا دینا بالکل عقل کے خلاف ہے۔اگر جماعت یہ فیصلہ کرلے کہ جو شخص مرتد ہونے کے بعد ہماری طرف واپس لوٹے گا اُس کا مقام جوتیوں میں ہوگا وہ مومنوں کا افسر نہیں ہو سکتا تو یقیناً اگر دس مرتد ہونے والے ہوں گے تو آئندہ صرف ایک مرتد ہوگا نو نہیں ہوں گے۔کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ جب ہم نے ٹھوکریں کھا کر ادھر ہی آنا ہے تو کیوں نہ خاموش رہیں اور فتنہ پیدا نہ کریں۔اس کے بعد خدا چاہے گا تو اُن کو ایمان نصیب ہو جائے گا اور ان کی پردہ پوشی ہو جائے گی اور اگر خدا چاہے گا تو ان کو نکال دے گا۔بہر حال اس رویہ سے مرتدین میں کمی ضرور آجائے گی۔زیادتی اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ فور سفارشیں شروع ہو جاتی ہیں کہ اب چونکہ فلاں شخص نے تو بہ کر لی ہے اس لیے اسے فلاں عہدہ دے دیا جائے۔قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص مرتد ہوا اور اس نے دعوی کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوتے ہیں میں تو ان سے بھی بڑا ہوں۔میں نے اُسے جماعت سے نکال دیا۔چار پانچ سال دھکے کھا کر آخر اس نے توبہ کی اور پھر وہ بیعت میں شامل ہوا۔مگر ادھر اس نے توبہ کی اور اُدھر سفارشیں شروع ہو گئیں کہ اسے فلاں جگہ کا امام جماعت بنا دیا جائے، فلاں علاقہ میں اسے مبلغ مقرر کیا جائے۔