خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 337

* 1949 337 خطبات محمود سفارش کرنے لگ جاتے ہیں کہ اُسے پھر اُسی مقام پر پہنچا دیا جائے جس مقام پر وہ ارتداد سے پہلے تھا۔اور جب کسی مرتد کو اُسی مقام پر پہنچا دیا جائے گا جس مقام پر وہ پہلے تھا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ مرتد ہونا گراں نہیں گزرے گا اور اخلاص پر قائم رہنے کی جدوجہد کمزور ہو جائے گی۔لیکن اگر جماعت کے اندر یہ احساس ہو کہ جو شخص مرتد ہونے کے بعد تو بہ کرتا ہے اُسے ہم کبھی امام نہیں بننے دیں گے، اسے ہم پہلی صف میں بھی جگہ نہیں دیں گے، اسے ہم دوسری صف میں بھی جگہ نہیں دیں گے، ی اسے ہم تیسری صف میں بھی جگہ نہیں دیں گے، اسے ہم چوتھی صف میں بھی جگہ نہیں دیں گے بلکہ اسے ہم جو تیوں کے پاس کی صف میں جگہ دیں گے تو مرتد ہونے والا سوچ سمجھ کر مرتد ہو۔کیونکہ ہر وہ شخص جو مرتد ہوتا ہے اگر ظاہر میں نہیں تو کم از کم دل میں یہ ضرور سمجھتا ہے کہ یہ سلسلہ سچا ہے۔ایسا کوئی مرتد ہم نے نہیں دیکھا جو بالکل ہی مرتد ہو گیا ہو۔اس میں کچھ نہ کچھ احمدیت کی رگ ضرور رہ جاتی ہے۔کبھی مرتد ہو کر یہ کہے گا کہ میں اس خلیفہ کو نہیں مانتا۔اور بڑھے گا تو کہے گا میں خلافت کو نہیں مانتا۔اور بڑھے گا تو کہے گا کہ میں مرزا صاحب کی نبوت کو نہیں مانتا۔کبھی کہے گا مجھے فلاں عقیدہ میں اختلاف ہے۔کبھی کہے گا یہ جماعت ہے تو بڑی قربانی کرنے والی مگر فلاں نقص اس میں پایا جاتا ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی ہے رگ احمدیت کی اس میں ضرور رہ جاتی ہے۔کامل مرتد میں نے آج تک کوئی نہیں دیکھا۔اور جب احمدیت کی کوئی نہ کوئی رگ مرتد ہونے والے میں بھی رہ جاتی ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے گلے میں رتی بندھی ہوتی ہے۔وہ کسی نہ کسی وقت ضرور واپس آئے گا۔اور جب کسی نے ضرور واپس آنا ہے تو ی اگر ایسے آدمی کو ہم ڈرائیں اور اسے واضح طور پر بتا دیں کہ تو بہ کرنے کے بعد تم ہماری جو نتیوں میں بیٹھو گے تم کسی اعلیٰ مقام یا عہدہ کے حقدار نہیں ہو گے تو اس کے دل میں فورا یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ مجھے مرتد نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کا نتیجہ خطرناک ہے۔جب اس کا دل کہتا ہے کہ آج نہیں تو کل میں نے ادھر ہی آنا ہے تو اگر اس کے دل میں یہ ڈر پیدا کر دیا جائے کہ واپس آکر تم اس مقام کو حاصل نہیں کرسکو گے جس پر اب قائم ہو تو وہ سوچ سمجھ کر قدم اُٹھائے گا اور کوئی بہت ہی گری ہوئی حالت والا لیلی انسان ہی ہوگا جو اس کے بعد بھی ارتداد اختیار کرے گا۔میرے نزدیک یہ جماعت کی کمزوری ہے کہ وہ مرتدین کے متعلق غیرت مندانہ رویہ اختیار نہیں کرتی۔آخر جماعت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ جو شخص ارتداد اختیار کرتا ہے اسے مومنوں پر افسر