خطبات محمود (جلد 30) — Page 339
$ 1949 339 خطبات محمود ایک شخص کا دماغ اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑا ہوں مگر پھر اس لیے کہ وہ تو بہ کر چکا ہے اُسے جماعت کا امام اور مبلغ بنا دیا جائے۔یہ ایک ایسی بات ہے جو کم از کم میری عقل اور سمجھ میں نہیں آسکتی۔بیشک وہ تو بہ کرے لیکن جب تک وہ زندہ رہے گا ایک چھوٹے سے چھوٹے احمدی کے پیچھے اُسے رکھا جائے گا کیونکہ اس چھوٹے احمدی کا کیریکٹر مضبوط ہے۔یہ مرتد نہیں ہوا اور وہ مرتد ہو چکا ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں ایک ان پڑھ اور جاہل شخص جو اَشْهَدُ کی بجائے اَشْهَدُ کہتا ہے بلکہ اَسْهَدُ کہنے کی بجائے اَشْهَد کہتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک اس مرتد ہونے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک چاہے وہ بخشا ہوا ہو ہمارے نزدیک تو وہ اپنی موت تک تمام مومنوں سے پیچھے رہے گا اور اسے کبھی ان کا سردار نہیں بنایا جائے گا۔غرض ہمارے لیے یہ ایک نہایت ہی نازک موقع ہے۔کمزور ایمان والوں کو ٹھوکر میں لگ رہی ہیں اور منافق اپنے نفاق کا اظہار کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر مخلصین کو زیادہ جوش اور عزم کے ساتھ دین کی خدمت کے لیے کھڑا ہو جانا چاہیے۔میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں کسی منافق کے خط کا ا ذکر کیا تھا۔بعض نے کہا تھا کہ یہ لاہور کا نہیں ہو سکتا۔میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ مجھے بھی شبہ ہے کہ یہ کسی باہر سے شخص کا ہے۔اب مجھے کچھ اندازے ایسے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قادیان سے آنے والے ایک شخص کا ہے۔بہر حال جماعت میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو قسم قسم کے اعتراضات کرتے ہیں اور در حقیقت یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مخلص اپنے جوش ایمان میں آگے بڑھتے اور دین کے لیے نہایت اعلیٰ درجہ کی قربانیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی فرماتا ہے کہ احزاب کے موقع پر منافقوں نے شور مچایا اور کہا کہ مسلمان اب گئے۔ان کا کوئی ٹھکا ن نہیں ہے رہا۔2 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو کمزور دل انسان ہیں وہ تو ان سے متاثر ہوتے ہیں مگر جب یہ لوگ مومنوں کے پاس پہنچتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ لواب تمہارا خاتمہ ہوا تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان تو تمہاری ہے ان باتوں سے بہت ہی بڑھ گیا ہے 3 کیونکہ جو باتیں تم بیان کر رہے ہو وہی باتیں قرآن کریم نے پہلے ی سے بیان کر دی تھیں اور بتلا دیا تھا کہ ایسا ابتلاء آنے والا ہے۔پس جتنے بڑے ابتلاء کی تم نے خبر دی ہے اُتنا ہی ہمارا ایمان زیادہ ہو گیا ہے۔پس ابتلاؤں سے مومنوں کا ایمان کم نہیں ہوتا بلکہ اور بھی ترقی کرتا ہے ہے۔مثلاً ہمارا قادیان سے آنا ہی لے لو میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ اسی وجہ سے ٹھوکریں کھا رہے