خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 310

$ 1949 310 خطبات محمود ملنے کے لیے آیا تو اس نے کہا میں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔پس اسکول قائم کرنے کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ ہماری تبلیغ وسیع ہوگی۔دوسری یہ لازمی بات ہے کہ جب تک لوگوں کے دلوں میں تعصب موجود ہے ان کی اکثریت می ہمارے اسکول میں نہیں آئے گی بلکہ ہمارے اسکول میں زیادہ تر تعداد اپنے لڑکوں کی ہی ہوگی۔اور ی چونکہ غیر احمدی تھوڑے ہوں گے اور زیادہ تر اپنے لڑکے ہوں گے اس لیے بہر حال احمدی ماحول قائم رہے گا اور زیادہ تر دوسرے لڑکے ہمارے لڑکوں کا اثر قبول کر کے نیک بنیں گے۔ہمارے لڑکے بوجہ زیادہ ہونے کے ان کے کھیل تماشے کے اثر کو کم قبول کریں گے اور احمدیت کے ماحول کی وجہ سے دین سے محبت اور تعلق کو زیادہ مضبوط کرتے چلے جائیں گے۔گویا فضا کو اپنے موافق بنانا ہمارے ہاتھ میں ہوگا اور ہم بچوں کی تربیت دینی رنگ میں نہایت آسانی سے کر سکیں گے۔اور اگر کوئی وقت ایسا آگیا کہ زیادہ تر غیر احمدی لڑکوں نے ہمارے سکول میں داخل ہونا شروع کر دیا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہماری مخالفت کی فضا موافقت میں بدل رہی ہے اور لوگوں کے قلوب ہماری طرف مائل ہو رہے ہیں اور جب وہ اور زیادہ مائل ہو گئے تو لازماً وہ احمدیت قبول کر لیں گے۔اس صورت میں بھی فضا کو اپنے کی موافق بنانا ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔بہر حال لاہور جیسے شہر میں جو کئی میلوں میں پھیلا ہوا ہے بغیر ک مناسب سکیم اور طریق کے کام نہیں ہوسکتا۔میں نے شروع میں یہاں کی جماعت کو بعض دفعہ ملامتیں بھی کی ہیں۔بعض دفعہ انہیں نقائص کی طرف توجہ بھی دلائی ہے مگر جیسا کہ ایک خطبہ میں میں نے کہا تھا میں غور کر رہا تھا کہ آخر ان نقائص اور کمزوریوں کی وجہ کیا ہے؟ انفرادی طور پر جماعت میں مخلص لوگ موجود ہیں مگر جماعتی طور پر ان میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔یہ نقص اگر دور ہو سکتا ہے تو کس طرح؟ میں اس پر ایک لمبے عرصہ تک غور کرتا رہا اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جہاں تک افراد کے ایمان کا سوال ہے ان میں ایمان اور اخلاص موجود ہے مگر حالات ایسے ہیں کہ وہ اپنے ایمانوں کو زیادہ مضبوط نہیں بنا سکے۔جیسے ماں بھنور میں پھنسی ہوئی ہو اور اُس کا بیٹا غرق ہورہا ہو تو وہ اُس کی مدد نہ کر سکے گی مگر اس وجہ سے یہ نہیں کہا جائے کی گا کہ ماں کی محبت کم ہوگئی ہے وہ اپنے بچہ کو غرق ہونے سے نہیں بچاتی بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ماں کی محبت تو ویسی ہی ہے مگر حالات ایسے ہیں کہ ماں اپنے بچہ کی مددکو نہیں پہنچ سکتی۔اسی طرح انفرادی طور پر ھے