خطبات محمود (جلد 30) — Page 309
$ 1949 309 خطبات محمود کہ بچہ اپنے ہم عمروں سے ہی دوستی رکھ سکتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بچہ ستر اسی سال کے بڑھے سے دوستی لگالے۔آٹھ دس سال کا بچہ کوشش کرے گا کہ چھ سات سال یا گیارہ بارہ سال کے لڑکے سے دوستی لگائے اور اس کے ساتھ مل جل کر باتیں کرے کیونکہ انسان طبعا اپنے منشا کے مطابق باتیں کرنے میں زیادہ لذت محسوس کرتا ہے اور اس قسم کی باتیں ہم عمروں سے ہی ہو سکتی ہیں جو زیادہ تر اسکول میں میسر آتے ہیں۔پس گو بظاہر وہ ایک چھوٹی سی جگہ ہوتی ہے مگر سارا شہر اس میں جمع ہوتا ہے کی اور اس وجہ سے وہ ایک نیا ماحول پیدا کرنے کی بہترین جگہ ہوتی ہے۔اگر کوئی ایسا اسکول کسی جماعت کے قبضہ میں آجائے جس میں شہر کے تمام لڑکے تعلیم حاصل کرتے ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمام شہر اس کے قبضہ میں ہے اور اگر محلہ کے سکول میں اثر پیدا کر لیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ سارا محلہ زیر اثر آگیا ہے۔لا ہور کے حالات پر غور کر کے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے اور اس کی طرف میں نے ایک دفعہ پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ہائی اسکول قائم ہونا نہایت ضروری ہے۔اگر تم احمدیت سے محبت رکھتے ہو، اگر تمہارا دل چاہتا ہے کہ تمہاری آئندہ اولا د بھی احمدی ہو تو میں آج تمہیں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ تم لاہور میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائی اسکول قائم کرو۔تمہارا خود احمدی ہونا تمہارے لیے ہرگز کافی نہیں۔اگر احمدیت ایک اچھی چیز ہے تو ضروری ہے کہ اپنی اولادوں کو بھی احمدی بناؤ۔اور اولاد کا احمدی ہونا اور اُس کا احمدیت کی تعلیم پر عمل کرنا ایک اچھے ماحول کا تقاضا کرتا ہے اور یہ ماحول صرف اپنے اسکول میں اسے حاصل ہو سکتا ہے۔اس لیے اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو تم لا ہور میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائی اسکول قائم کرو۔ان اسکولوں سے ہماری تبلیغ میں بھی ترقی ہوگی اور لڑکوں کی تربیت بھی اچھے ماحول میں ہو سکے گی۔یہ ظاہر ہے کہ ان اسکولوں میں ہماری جماعت کے لڑکے ہی داخل نہیں ہوں گے بلکہ دوسرے لڑکے بھی آئیں گے۔اور جب وہ آئیں گے تو لازمی طور پر بعض اچھے اچھے خاندانوں میں جن میں یوں تبلیغ کا کوئی موقع نہیں مل سکتا ہماری تبلیغ کا رستہ کھل جائے گا اور ان میں سے کئی احمدیت کو قبول کر لیں گے۔کالج ہی کو دیکھ لو ہمارا کالج یہاں اتفاقی طور پر کھلا ہے۔مگر کل ہی پرنسپل کی رپورٹ آئی کہ اس دفعہ میں فیصدی غیر احمدی لڑکے داخل ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک بڑے غیر احمدی رئیس کے چا کا بیٹا پچھلے سال ہمارے کالج میں داخل ہوا۔اب وہ مجھ سے کی