خطبات محمود (جلد 30) — Page 254
* 1949 254 خطبات محمود معنوں کے ساتھ اس کا خاص تعلق ہے۔آپ نے نہ صرف تبلیغ کی بلکہ آپ کے ملنے کی وجہ سے لوگوں میں خدا تعالیٰ کی اتنی محبت پیدا ہو گئی تھی کہ اس کی وجہ سے نہ صرف مدینہ اور اس کے ارد گرد کا علاقہ مسلمان ہو گیا بلکہ قریباً سارا عرب مسلمان ہو گیا۔صرف کہیں کہیں عیسائی اور یہودی قبائل رہ گئے تھے۔س کے علاوہ آپ کو ایک زائد بات بھی حاصل تھی۔آپ کے شہر اور علاقہ کا مسلمان ہو جانا تو چھوٹی سی ن ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میری زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔یعنی میرے تمام کام ایسے ہیں جو صرف میری ذات کے لیے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کی بہتری کی کے لیے ہیں۔دوسرے انبیاء بھی اس کام میں ایک حد تک آپ کے مشابہ ہیں۔حضرت موسی کے اتباع میں بھی یہ جذبہ پایا جاتا تھا مگر وہ محد و درنگ رکھتا تھا۔تو رات میں یہی حکم آتا ہے کہ تم بنی اسرائیل کے ساتھ یوں سلوک کرو، یوں سلوک کرو۔ساری دنیا سے سلوک کرنے کا اس میں کہیں حکم نہیں دیا گیا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ساری دنیا کے لیے ہمدردی پائی جاتی تھی۔اسی لیے آپ کو چی ساری دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا۔مگر اس سے بڑھ کر آپ کو یہ بات حاصل تھی کہ آپ کا مقام حیات ہے جو تھا وہ بھی رب العلمین کے لیے ہو گیا تھا۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی نہیں بلکہ آپ کے جی ننے والوں نے بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔اس کی موٹی اوی مثال یہ ہے کہ اگر کسی قوم کے اندر دوسروں کے فوائد کو اپنے فوائد پر مقدم رکھنے کا جذبہ پایا جائے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کا مقام حیات کس قدر بلند ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب شام میں لڑائیاں ہوئیں اور بیت المقدس بھی فتح ہوا تو عیسائیوں نے دوبارہ حملہ کیا اور مسلمانوں کو کچھ وقت کے لیے بیت المقدس چھوڑنا پڑا۔جب مسلمان پیچھے ہٹے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ بیت المقدس کو کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیں گے تو انہوں نے شہر کے باشندوں کو بلایا اور آئندہ سال کے لیے جو ٹیکس وصول کیے ہوئے تھے وہ سب واپس کر دئیے۔اس کا اُن پر اتنا اثر ہوا کہ تاریخ میں آتا ہے کہ جب لشکر شہر سے باہر نکل آیا تو عوام الناس تو الگ رہے بڑے بڑے پادری بھی روتے اور دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا! ان لوگوں کو جلد واپس لا-3 اُن کی اپنی قوم ان پر قابض ہو رہی تھی۔لیکن وہ غیر قوم کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے کہ خدا ان کو جلد واپس لے آئے۔مسلمانوں نے سال بھر