خطبات محمود (جلد 30) — Page 253
خطبات محمود 253 $ 1949 مَحْيَاءَ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ میری زندگی اب ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے کہ میری زندگی در حقیقت اللہ کی زندگی ہو گئی ہے۔میں چلتا ہوں تو میں نہیں چلتا خدا تعالیٰ چل رہا ہوتا ہے، ہمیں یکھتا ہوں تو اُس وقت میں نہیں دیکھ رہا ہوتا خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہوتا ہے، میں کوئی بات سنتا ہوں تو اُس کی وقت میں نہیں سن رہا ہوتا خدا تعالیٰ سن رہا ہوتا ہے۔گویا میری زندگی باختیار خود زندگی نہیں بلکہ میری زندگی باختیار اللہ ہو گئی ہے۔میری مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو گئی ہے۔یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور ہوتے ہوتے وہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے، خدا تعالیٰ اُس کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے، خدا تعالیٰ اُس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ چکھتا ہے، خدا تعالیٰ اُس کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے، خدا تعالیٰ اُس کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔2 گویا وہ صرف اپنی طرف سے ہی کوشش نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ بھی اس کی کوششوں کو قبول کر لیتا ہے اور اسے اپنی صفات کے ظہور کا مقام بنالیتا ہے۔پھر اس سے اوپر ایک اور مقام آتا ہے اور وہ محیا کے دوسرے معنے ہیں اور وہ مقام یہ ہے کہ اُس کا مقام زندگی بھی خدا تعالیٰ کے لیے ہو جاتا ہے اور وہ اشاعتِ اسلام اور اعلائے کلمۃ اللہ اور خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف توجہ دینے میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ جس جگہ بھی وہ جاتا ہے لوگ کھیچے ہوئے اُسی کی طرف آ جاتے ہیں۔یہ مقام انبیاء کو نصیب ہوا ہے مگر جس شان کے ساتھ یہ مقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا ہے کسی دوسرے نبی کو نہیں ملا۔حضرت موسی علیہ السلام کو بھی یہ مقام نصیب ہوا ہے مگر آپ کی زندگی میں ایسا نہیں ہوا بلکہ وفات کے بعد ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی جس جگہ تھے وہ ماحول پاکیزہ ہو گیا تھا۔اس جگہ کے رہنے والے قربانی کرنے والے تھے مگر وہ ماحول بھی محدود تھا۔اگر کوئی ہستی ایسی ہوئی ہے جس نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی خاطر اس کے دین کی خدمت میں اس قدر محو کر دیا ہو کہ تمام ماحول کھلی طور پر خدا تعالیٰ کے لیے ہو گیا ہو تو وہ صرف رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے۔آپ کے شہر اور علاقہ کے جو رہنے والے تھے آپ نے ان سب کو اپنی قوت قدسیہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے لیے کر دیا۔پھر رَبُّ الْعَالَمِینَ کی شرط تمام معنوں کے ساتھ اپنے اپنے رنگ میں لگتی ہے۔خصوصاً آخری ہے