خطبات محمود (جلد 30) — Page 252
* 1949 252 خطبات محمود وہ ہوتا ہے جو دنیا کو چھوڑ دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور ایک آدمی وہ ہوتا ہے جو صرف ارادہ ہی نہیں رکھتا بلکہ عملاً ایسا کر دیتا ہے اور یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ایثار والی زندگی کا درجہ عام زندگی سے بہر حال بالا ہے۔خدا تعالیٰ کی خاطر دنیا چھوڑنے والے لوگ صرف یہ نہیں کہتے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی زندگی ہے خدا تعالیٰ کی خاطر وقف کر دیں گے بلکہ وہ عملی طور پر بھی وقف کر دیتے ہیں اور ان کے تمام کام خدا تعالیٰ کی کے لیے ہو جاتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔وہ دنیا کی کمائی کے ایسے ذرائع تجویز کرتے ہیں جو اُن کی وقف شدہ زندگی میں رخنہ نہ ڈالیں اور ان کے مذہبی کاموں میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔مثلاً جب فتح خیبر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین اپنے خاندان کے کے لیے وقف کر دی جس سے ان کے گزارہ کا سامان ہوتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں پر ای خود کام نہیں کرتے تھے بلکہ جس طرح اجارہ پر زمین دی جاتی ہے وہ زمین دوسروں کو دے دی گئی تھی اور اس سے جو حصہ آتا تھا وہ آپ خاندان میں تقسیم کر دیتے تھے۔اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگیاں بھی نظر آتی ہیں۔وہ اپنے اوقات دنیوی کاموں میں استعمال نہیں ہے کرتے تھے۔گونمنی طور پر ایسے کام ہو بھی جاتے تھے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان کی علیہ السلام نے کیا۔وہ ایسا کام کر لیتے تھے مگر اس طرح نہیں کہ وہ ان کے اصل کام میں روک پیا کر دیں۔یہ مقام نہایت اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میری ساری زندگی خدا تعالیٰ کی خاطر ہے مگر اس سے اوپر ایک اور مقام بھی ہے۔یعنی ایک مقام تو یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لیے زندگی بسر کرے مگر یہ مقام ادنی ہوتا ہے کیونکہ اس میں صرف اتنی بات پائی جاتی ہے کہ انسان اپنے ارادے اور نیت سے اس کام میں لگا رہتا ہے لیکن ایک مقام ایسا ہوتا ہے کہ زندگی قربان کرنے والا ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کی اس قربانی کو قبول کر لیتا ہے۔یہ دونوں مقام الگ الگ ہیں۔جو انسان اپنے ارادے اور نیت سے اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی خاطر وقف کر دے ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ اسے قبول بھی کر لے۔ایک شخص اپنے آپ کو خدمت کے لیے آقا کے سامنے پیش کر دیتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ آقا اس کی خدمت کو قبول بھی کر لے۔اس شخص کی زندگی خدا تعالیٰ کی خاطر تو شمار ہوگی لیکن یہ اعلیٰ مقام قربانی نہیں۔ہاں ! خدا تعالیٰ اس کی قربانی کو قبول کرلے تو یہ علیحدہ امر ہے۔