خطبات محمود (جلد 30) — Page 209
$ 1949 209 خطبات محمود آپ کی تکلیف کے خیال سے میں نے آپ کو اطلاع نہیں بھجوائی تھی۔انہوں نے کہا میری تو خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ جاتا اور اب نہ جانے کی وجہ سے مجھے انتہائی رنج ہوا۔غرض اس کام کے لیے انہوں نے دن رات ایک کر دیا تھا اور یقیناً اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی موزوں آدمی تھے۔ہمارے مرکز کا قائم ہونا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بڑی اہم چیز ہے۔اگر ہمارا نیا مرکز کامیاب ہوگا اور ہمیں یقین ہے کہ وہ کامیاب ہوگا تو یہ ایک ویسی ہی اہمیت رکھنے والی چیز ہوگی جیسے کہ دنیا کے بڑے بڑے مذہبی مرکزوں کی تعمیر اہمیت رکھتی تھی۔مقامات مرکزی کا قیام ایک بہت بڑا کام ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جدید مرکز کے قیام کا سہرا یقیناً نواب محمد الدین صاحب مرحوم کے سر پر ہے اور یہ عزت اور رتبہ انہی کا حق ہے۔جب تک یہ جماعت قائم رہے گی لوگ ان کے لیے دعا بھی کریں گے اور ان کی قربانی کو دیکھ کر نوجوانوں کے دلوں میں یہ جذبہ بھی پیدا ہو گا کہ وہ ان جیسا کام کریں۔گجا ایک بوڑھا بیمار اور کمزور آدمی اور گجا اس کی یہ حالت کہ وہ دن ہے کو بھی وہاں موجود ہے اور رات کو بھی وہیں موجود ہے اور رپورٹیں پیش کر رہا ہے کہ آج میں فلاں سے ملا تھا، آج فلاں سے ملا تھا۔اب بھی جب وہ مری میں تھے وفات سے دس دن پہلے انہوں نے مجھے لکھا کہ اب ربوہ میں تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے اور چونکہ یہ کام نگرانی چاہتا ہے اور میری صحت ٹھیک ہوگئی ہے اس لیے میرا ارادہ ہے کہ ربوہ چلا جاؤں اور کام میں مدد دوں۔غرض ہرکارے و ہر مردے سینکڑوں کام ہوتے ہیں لیکن بہت برکت والا ہوتا ہے وہ آدمی جس سے کوئی ایسا کام ہو جائے جو اپنے اندر تاریخی عظمت رکھتا ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کام کا ان کے ہاتھ سے ہونا ان کی کسی بہت بڑی نیکی کی وجہ سے تھا اور میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ پیچھے آئے مگر آگے گزر گئے۔بیعت سے پہلے وہ احمدیت کے قائل تو تھے۔چنانچہ جب وہ دہلی میں افسر مال لگے ہوئے تھے اور میر قاسم علی صاحب وہاں تھے تو انہوں نے اپنے لڑکے چودھری محمد شریف صاحب وکیل کی بیعت کروا دی تھی لیکن خود بیعت نہیں کرتے تھے۔غالباً 1927ء میں انہوں نے بیعت کی ہے۔مجھے یاد ہے جب انہوں نے بیعت کی تو ساتھ یہ درخواست کی کہ میری بیعت ابھی مخفی رہے۔