خطبات محمود (جلد 30) — Page 208
خطبات محمود 208 * 1949 یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ فوراً ایک نیا مرکز بنایا جائے جہاں قادیان کے لوگوں کو آباد کیا جائے اور مرکزی دفاتر بھی بنائے جائیں۔اس کے لیے اور میرے آئندہ پروگرام کے طے کرنے کے لیے سات ستمبر 1947ء کو ایک میٹنگ بلائی گئی لیکن شہر کے شہر کو دوسری جگہ پر بسانا کوئی معمولی کام نہیں تھا بلکہ اس کے لیے انتہائی محنت کی ضرورت تھی۔یہ جماعت پرندوں کی تو تھی نہیں کہ ایک جگہ سے اڑ کر دوسری جگہ پر جا بیٹھتی بلکہ ایک مرکز رکھنے والی جماعت تھی۔اسے ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی جہاں جماعت پھر اپنی بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔جس طرح میرے قادیان سے نکلنے کا کام کیپٹن عطاء اللہ صاحب کے ہاتھ سے سرانجام پانا تھا اسی طرح ایک نئے مرکز کا قیام ایک دوسرے آدمی کے سپر د تھا جو پیچھے آیا اور کئی لوگوں سے آگے بڑھ گیا۔میری مراد نواب محمد الدین صاحب مرحوم سے ہے جن کی اسی ہفتہ میں وفات واقع ہوئی ہے۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اُن کی خدمات کی وجہ سے ربوہ میں کوئی ایسا نشان مقرر کیا جائے کی جس کی وجہ سے جماعت ہمیشہ اُن کی قربانیوں کو یا د ر کھے اور اس بات کو مت کھو لے کہ کس طرح ایک 80 سالہ بوڑھے نے جو محنت اور جفاکشی کا عادی نہیں تھا، جو ڈپٹی کمشنر اور ریاست کا وزیر رہ چکا تھا، جو صاحب جائداد اور متمول آدمی تھا 1947ء سے 1949 ء کے شروع تک باوجود اس کے کہ اُس کی طبیعت اتنی مضمحل ہو چکی تھی کہ وہ طاقت کا کوئی کام نہیں کر سکتا تھا، اپنی صحت اور اپنے آرام کو نظر انداز کرتے ہوئے رات اور دن ایک کر دیا۔اس لیے کہ کسی طرح جماعت کا نیا مرکز قائم ہو جائے۔سینکڑوں دفعہ وہ افسروں سے ملے، اُن سے جھگڑے کیے ،لڑائیاں کیں منتیں اور خوشامدیں کیں اور پھر مرکز کی تلاش کے لیے بھی پھرتے رہے۔انہیں اس کام میں اتنا انہماک تھا ہے کہ ایک دفعہ میں اکیلا ربوہ گیا اور انہیں اطلاع نہ دی۔میں نے سمجھا وہ ضعیف العمر آدمی ہیں انہیں کی تکلیف نہ دی جائے۔ان کو ریٹائر ہوئے بھی بائیس سال ہو چکے تھے۔1926ء میں میں جب مالیر کوٹلہ گیا تو وہ وہاں منسٹر تھے۔جب میں واپس آیا تو انہوں نے کہا مجھے سخت افسوس ہے کہ اس دفعہ میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکا۔مجھے بھی اطلاع دیتے تو میں ساتھ چلا جاتا۔میں نے کہا صرف