خطبات محمود (جلد 30) — Page 181
$1949 181 خطبات محمود کہ میں نے اس کا امتحان تو لینا تھا مگر اب میں امتحان لے کر کیا کروں یہ تو اپنے آپ کو خود ہی امتحان میں ڈالے ہوئے ہے۔لیکن جب وہ ان باتوں میں سستی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ابتلاؤں میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے مختلف امتحانات میں ڈالا جاتا ہے۔اس وقت اگر تو اُس کے اندر صرف عملی شستی پائی جاتی ہو تو خدائی امتحان کے بعد اُس میں بیداری این پیدا ہو جاتی ہے۔اور اگر اس کا ابتلاؤں سے بچنا اندرونی بگاڑ کی وجہ سے ہو اور ایمان کی خرابی اس کا باعث ہو تو ابتلاء آنے پر وہ تباہ ہو جاتا ہے۔غرض قوموں کے لیے خصوصاً انبیاء کی جماعتوں کے لیے ابتلاؤں کا آنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔یہ غلط خیال ہے کہ ابتلا صرف ابتدائی زمانہ میں آتے ہیں ترقی کے زمانہ میں ابتلاؤں کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے۔انبیاء کی جماعتوں کی ترقی اور ابتلا یہ دو تو ام بھائی ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ابتدائی سے ابتدائی زمانہ میں بھی ابتلا آتے ہیں اور ترقی کے انتہائی زمانہ میں بھی ابتلا آتے ہیں۔ابتدا سے انتہا تک ابتلاؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔جب نبی ایک منفرد وجود ہوتا ہی ہے اور اُس پر صرف ایک یا دو آدمی ایمان لانے والے ہوتے ہیں اُس وقت بھی ابتلا آتے ہیں اور انتہائی عروج کے وقت بھی جب سلسلہ کو ترقی پر ترقی حاصل ہو رہی ہوتی ہے اُس وقت بھی ابتلا ہی آتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے دن بھی مصائب اور مشکلات میں سے گزرنا پڑا اور آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو مختلف قسم کے ابتلا پیش آئے۔اور اس کے بعد جب ترقیات کا زمانہ آیا اُس وقت بھی ان ابتلاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔یہ نہیں ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کسی دن اس خیال کے ساتھ سوئے ہوں کہ اب تمام مشکلات پر قابو پالیا گیا ہے اور وہ تمام مسائل جو مسلمانوں کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے تھے حل ہو چکے ہیں۔نہ حضرت ابو بکر نے کبھی ایسا خیال کیا ، نہ حضرت عمر نے کبھی ایسا خیال کیا، نہ حضرت عثمان نے کبھی ایسا خیال کیا اور نہ ہماری جماعت کو کبھی ایسا خیال کرنا چاہیے۔یہ چیزیں الہی سلسلوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے ابتلاؤں کو برداشت کریں۔اور اگر ابتلا نہ آئیں تو خود ان کو تلاش کرنے اور اپنے اوپر وارد کرنے کی کوشش کریں۔جیسے حضرت ابو بکر نے قیصر پر حملہ کر دیا حالانکہ صلح کا راستہ بھی ان کے لیے کھلا تھا۔اسی طرح حضرت عمرؓ نے کیا کہ باوجود اس کے کہ کسری کے