خطبات محمود (جلد 30) — Page 180
* 1949 180 خطبات محمود حضرت عثمان جانتے تھے کہ اگر میں نے جنگیں نہ کیں تو مسلمانوں کے اخلاق گر جائیں گے اس لیے انہوں نے لڑائیوں کو جاری رکھا اور مصائب کا سلسلہ قومی طور پر مسلمانوں پر جاری رہا۔حضرت کی علی اور معاویہ کے زمانہ میں مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو دیکھ کر قیصر نے پھر دوبارہ حملہ کرنا چاہا تھی مگر چونکہ اُس وقت سستی اور تنزل کا زمانہ شروع ہو چکا تھا مسلمانوں نے اس کا مقابلہ نہیں کیا۔اگر اُس وقت حضرت معاویہ قیصر کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوتے جیسا کہ انہوں نے دھمکی بھی دی تھی کہ اگر تم نے حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علی کی طرف سے تمہارے مقابلہ میں نکلے گا وہ میں ہوں گا4 یا اگر قیصر اس دھمکی کے باوجود حملہ کر دیتا اور حضرت معاویہ جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوتے تو حضرت علی اور معایہ کی باہمی جنگیں بالکل ختم ہو جاتیں لیکن معاویہ کا دماغ وہ نہیں تھا جو حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کا دماغ تھا۔انہوں نے صرف پیغام دینا کافی سمجھا حالانکہ جب دشمن نے حملے کا ارادہ کر لیا تھا تو یہ لڑائی کے لیے ایک کافی وجہ تھی۔اگر معاویہ بھی قیصر کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوتے اور حضرت علی بھی اُس کے مقابلہ کے لیے اپنا لشکر بھجوا دیتے تو پھر دوبارہ تمام مسلمانوں میں جوش پیدا ہو جاتا ، ان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہو جاتی اور وہ منافقت جو آرام کے زمانہ کی وجہ سے اُن میں پیدا ہو چکی تھی بالکل جاتی رہتی۔تو مصائب کا زمانہ روحانی ترقی کے لیے ایک نہایت ضروری چیز ہے۔اگر کسی وقت باہر سے مصائب نہ آئیں تو مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے اندرونی طور پر مصائب تلاش کرنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر جب بندہ خود اپنے آپ کو امتحانات میں ڈالے رکھے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امتحان میں اسے نہیں ڈالتا۔آپ فرمایا کرتے تھے سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا یا گرمیوں میں روزے رکھنا یہ بھی ایک ابتلا ہے اور انسان ان کاموں میں حصہ لینے سے تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن جب کوئی انسان خوشی سے اپنے او پر مختلف ابتلاء وارد کر لے، گرمیوں میں روزے رکھنے پڑیں تو وہ روزے رکھنے کے لیے تیار ہو جائے ،سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا پڑے تو وضو کرنے کی کے لیے تیار ہو جائے، حج کرنے کا موقع نکل آئے تو گھر بار اور وطن چھوڑ کر حج کے لیے چلا جائے، زکوۃ دینے کا وقت آئے تو اپنے مال کا مقررہ حصہ فوراً غرباء کے لیے نکال دے تو اللہ تعالیٰ کہتا۔