خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 182

$ 1949 182 خطبات محمود ساتھ وہ صلح کر سکتے تھے انہوں نے صلح نہیں کی بلکہ کسری کے ساتھ لڑائی کی اور پھر یہ لڑائی جاری رکھی۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم پر ابتلا وارد نہ ہوں تو ہمیں خود اپنے لیے ابتلا تلاش کرنے چاہیں تا کہ جماعت کے اندر بیداری پیدا ہو اور وہ اپنے آپ کو بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرے۔ابھی تو ہماری وہی مثال ہے کہ ”گے آمدی و گے پیر شدی“۔ہمارا دنیا میں آنا اور کسی قدر تغیر پیدا کرنا بے شک ہماری نگاہ میں ایک بڑی چیز ہے لیکن دنیا کے لیے یہ کوئی بڑی چیز نہیں۔عربی میں ایک مثل مشہور ہے کسی بیل کے سر پر ایک مچھر جا کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد کہنے لگا بھائی بیل! تم بھی حیوان ہو اور میں بھی حیوان ہوں، مجھے بھی لوگ مارتے ہیں اور تم کو بھی مارتے ہیں اس لحاظ سے تمہیں میری ہمدردی کرنی چاہیے اور مجھے تمہاری ہمدردی کرنی چاہیے۔میں اس وقت اُڑتے اڑتے تھک کر تمہارے سر پر تھوڑی دیر کے لیے آکر بیٹھ گیا ہوں۔اگر تمہیں میرے بیٹھنے سے بوجھ معلوم ہوتا ہو تو مجھے بتا دو تا کہ میں اُڑ جاؤں اور تمہیں تکلیف نہ ہو۔بیل نے جواب دیا کہ بھائی مچھر! مجھے تو یہ بھی پتا نہیں لگا کہ تم کب میرے سر پر آکر بیٹھے ہو۔مجھے تمہارا بوجھ کیا محسوس ہونا ہے۔یہی حال ہمارا ہے۔ہم بھی اپنی تنظیم اور اپنی قربانیوں اور اپنے منصبوں کے کام کی وجہ سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے دنیا میں بہت بڑا کام کر لیا ہے لیکن دنیا اس کو کوئی کام نہیں سمجھتی۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس خیال کے پیدا ہونے میں ہمارے کام کا اتنا دخل نہیں ہوتا جتنا اللہ تعالیٰ کے الہامات اور اس کی پیشگوئیوں کا دخل ہوتا ہے۔ہم جب ایک طرف اللہ تعالیٰ کے الہامات کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف جماعت کی تنظیم اور اس کی قربانیوں اور اپنے مبلغین کے کام پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں عظیم الشان کام کر لیا ہے حالانکہ وہ عظیم الشان مقام جس کے حصول کے بعد دنیا کسی جماعت کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکتی ابھی ہمیں حاصل نہیں ہوا۔اور ابھی وہ زمانہ ہم پر نہیں آیا جس میں ہماری جماعت کی عظمت اور اس کے وجود کو بر ملا لتسلیم کیا جائے۔اور اُس زمانہ کے لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی طاقت اور قوت پیدا کریں کہ نہ صرف ہم ہر قسم کے ابتلاؤں کو برداشت کریں بلکہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا وارد نہ ہو تو ہم خود اُس سے اپنے لیے ابتلا ما نگیں۔ابتلا کی برداشت ہر شخص کر سکتا ہے۔اس کے لیے کسی بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ابتلاؤں کا مانگنا اصل چیز ہوتی ہے مگر مانگنے سے مراد