خطبات محمود (جلد 30) — Page 177
* 1949 177 خطبات محمود جو دنیا میں رہتے ہوئے اور تمام دنیوی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اپنی روحانیت کو زندہ رکھتے تھے۔انہوں نے عیسائیوں کی طرح دنیا چھوڑ نہیں دی بلکہ دنیا میں ہی رہے۔وہ شادیاں بھی کرتے تھے، وہ بچے بھی پیدا کرتے تھے، وہ جائدادیں بھی بناتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی وہ اللہ تعالیٰ سے بھی کامل تعلق رکھتے تھے۔لیکن یہ مثالیں صرف افراد میں پائی جاتی ہیں لی قوموں میں نہیں۔فرد ہمیشہ ایسے نظر آتے رہیں گے جو بڑی سے بڑی دولتوں کے مالک ہو کر بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے۔حضرت عبد الرحمان بن عوف جب فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑ روپیہ ان کے گھر سے نکلا۔اس زمانہ کے لحاظ سے اڑھائی کروڑ کے معنے کم سے کم اڑھائی ارب روپیہ کے ہیں۔اس زمانہ میں روپیہ کی قیمت بہت گر گئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اس زمانہ کے روپیہ کی قیمت کا صحیح اندازہ لگا ئیں تو اڑھائی کروڑ کے معنے دس ارب روپیہ کے ہیں۔لیکن اگر کم سے کم سو گنا فرق رکھا جائے تو اڑھائی ارب روپیہ بنتا ہے۔اس زمانہ میں ہی جنگ سے پہلے روپیہ کی جو قیمت تھی آج اُس سے چار گنا کم ہے یعنی ایک روپیہ آج صرف چونی کا ہے اور تیرہ سو سال کے زمانہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تو یہ فرق کم از کم سو گنا ہو جاتا ہے۔پس اڑھائی کروڑ کے معنے آجکل کے لحاظ سے اڑھائی ارب کے ہیں اور اس زمانہ میں بھی اڑھائی ارب روپیہ رکھنے والے ساری دنیا میں صرف دس پندرہ آدمی ہوں گے اور وہ بھی امریکہ، فرانس اور جرمنی میں۔پس یہ استثنائی دولت ہے جو شاذ و نادر کے طور پر بعض لوگوں کو حاصل ہوتی ہے مگر اتنی دولت رکھنے کے باوجود تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن عوف نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور وہ اپنا اکثر مال ہے مسلمانوں کی ترقی کے لیے خرچ کر دیا کرتے تھے۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گو خود نہیں کماتی تھیں مگر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے آپ کی خدمت میں اکثر ہدایات پیش کرتے رہتے تھے۔لیکن ان کی زندگی کے بھی دنیاداروں والی زندگی نہیں تھی بلکہ وہ اپنا اکثر روپیہ غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔یہاں تک کہ ان کے بھانجے نے جس نے اُن کے مال کا وارث ہونا تھا ایک دفعہ یہ دیکھتے ہوئے کہہ دیا کہ حضرت عائشہ تو اپنا سارا مال لگا دیتی ہیں۔یہ خبر جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہنچی تو آپ