خطبات محمود (جلد 30) — Page 178
$ 1949 178 خطبات محمود نے اپنے گھر میں اُس کا آنا جانا بند کر دیا اور قسم کھائی کہ اگر میں نے اسے اپنے گھر میں آنے کی اجازت دی تو میں اس کا کفارہ ادا کروں گی۔کچھ عرصہ کے بعد صحابہؓ نے آپس میں صلح کرا دی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے کو معاف کر دیا۔مگر کہا کہ چونکہ میں نے عہد کیا تھا کہ اگر میں اس سے کلام کروں گی تو کفارہ ادا کروں گی اس لیے میں اس کا کفارہ یہ قرار دیتی ہوں کہ آئندہ میرے پاس جو دولت بھی آئے گی میں غرباء میں تقسیم کر دیا کروں گی۔3 اگر روپیہ کمانا یا رو پی کا کسی شخص کے پاس موجود ہونا منع ہوتا تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہ سکتی تھیں کہ میرے پاس جتنا روپیہ بھی آیا یا جتنی بھی دولت آئی وہ میں سب کی سب غرباء میں تقسیم کر دیا کروں گی؟ کیا تم نے کبھی ایسا کیا ہے کہ تمہیں کوئی دوست شراب تحفہ دے تو تم اسے قبول کر لو اور پھر اپنے کسی اور دوست یا غریب کو دے دو؟ یا کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ تم سور کا گوشت قبول کر لو؟ روپیہ قبول کرنے کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے لیے روپیہ لینا جائز ہے۔اور کسی دوسرے کو واپس کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے ایک جائز چیز لینے کے بعد اُس کے خرچ کا ایک اور محل سوچ لیا ہے۔پس حضرت ی عائشہ کے ہدایا قبول کرنے کے معنے ہی یہ تھے کہ وہ اس کو جائز بجھتی تھیں۔مگر پھر دوسروں کو دے کی دینے کے یہ معنے تھے کہ میں اپنے سے زیادہ فلاں فلاں افراد کو مستحق سمجھتی ہوں۔اگر حضرت الی عائشہ رضی اللہ عنہا ان ہدایا کورڈ فرما دیتیں تو چونکہ عام لوگ اُس معیار پر نہیں پہنچے ہوئے تھے جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پہنچی ہوئی تھیں اس لیے وہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتے کہ حضرت عائشہ نے ہماری قدر نہیں کی۔ہم بڑی محبت سے ان کے لیے کپڑا لائے تھے یا پھل لائے تھے یا روپیہ لائے تھے اور انہوں نے قبول نہیں کیا۔شاید ہم سے کوئی قصور ہو گیا ہو۔اور پھر وہ بار بار کہتے کہ ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہم سے کیا خطا ہوئی ہے اور ہماری غلطی کو معاف کیا جائے۔اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تب بھی بہر حال اُن لوگوں کو روپیہ نہ دیتے جن کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دینا چاہتی تھیں۔اس وجہ سے حضرت عائشہ نے خیال فرمایا کہ مجھے ان سے جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے۔میں ان سے روپیہ لے لیتی ہوں یا جو کچھ یہ نذرانہ پیش کرنے آئے ہیں وہ لے لیتی ہوں بعد میں میں غرباء کو دے دوں گی۔اِس طرح دونوں باتیں ہو جاتیں۔صحابہ کا دل بھی خوش ہو جاتا اور غرباء کی بھی امداد ہو جاتی۔