خطبات محمود (جلد 30) — Page 176
* 1949 176 خطبات محمود لیے ہم اس حملہ کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ تم ہم سے معافی مانگو اور اس فعل پر ندامت کا اظہار کرومگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اسی طرح حضرت عثمان نے اپنے زمانہ میں دشمنوں کو یہ نہیں کہا کہ تم نے ظلم تو کیا ہے لیکن چونکہ ہمارا مذہب ظلم کی معافی کی بھی تعلیم دیتا ہے اس لیے ہم تمہیں معاف کرتے ہیں بلکہ وہ فوراً اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور لشکر بھیجے ، لڑائی کی اور پھر اس لڑائی کو جاری رکھا۔آخر اس کی کیا وجہ تھی ؟ اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں تھی کہ حضرت ابوبکر جانتے تھے کہ جب بھی بیرونی خطرہ کم ہوا اندرونی فسادات شروع ہو جائیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ قیصر نے حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تا مسلمان اس مصیبت کے ذریعہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں اور اپنے اندر نئی زندگی اور نیا تغیر پیدا کریں۔حضرت عمر جانتے تھے کہ کسری نے حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تا کہ مسلمان غافل، سُست ہو کر دنیا میں منہمک نہ ہو جائیں۔بلکہ ہر وقت بیدار اور ہوشیار رہیں۔حضرت عثمان جانتے تھے کہ بعض قبائل نے مسلمانوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تا کہ مسلمان بیدار ہوں اور ان کے اندر ایک نئی روح اور نئی زندگی پیدا ہو۔غرض مصائب خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور اس لیے آتے ہیں تا کہ قومیں اپنی روحانیت کو قائم رکھ سکیں اور آرام کے سامانوں کے پیدا ہونے کی وجہ سے وہ کلّی طور پر دنیا کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔یہ مقام کہ انسان دنیا میں پڑنے کے باوجود دین کی روح کو قائم رکھے بہ ممکن ہے بلکہ اسے روحانی ترقی کی منزل مقصود قرار دیا گیا ہے۔کہتے ہیں ”دست در کار دل بایار۔ہاتھ کام کے اندر ہونا چاہیے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی محبت موجزن ہونی چاہیے۔یہ مقصود ہے جو صوفیاء نے انسان کا قرار دیا ہے اور اصل مقام روحانی ترقی کا یہی ہوتا ہے مگر انفرادی طور پر تو اس مقام کو حاصل کرنے والے کئی لوگ پائے جاتے ہیں لیکن قومی طور پر اس پر پہنچنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں آج تک کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں ملتی جو اس مقام پر پہنچی ہو۔افراد ملیں گے اور لاکھوں کروڑوں ملیں گے بلکہ اس زمانہ میں بھی جب مسلمان بادشاہتیں ظلم کر رہی تھیں ، لوٹ مار کر رہی تھیں اور اپنے غلبہ اور کامیابی کے نشہ میں چور ہو کر اسی طرح لوگوں بر ظالمانہ حملے کر رہی تھیں جس طرح وحشی قبائل حملے کرتے ہیں مسلمانوں میں ایسے افراد موجود تھے۔