خطبات محمود (جلد 2) — Page 215
۲۱۵ مگر اس محبت کی وجہ سے جو اسے میرے ساتھ ہے اس کو یہ خیال ہی نہیں آتا کہ یہ تو گھوڑے پر سوار تھے یہ کس طرح تھکے ہوں گے۔وہ یہی سمجھتا ہے کہ گویا تھوڑے پر وہ سوار تھا اور پیدل میں چلتا آیا چنانچہ میرے اصرار کرنے کے باوجود کہ میں نہیں تھکا ئیں تو گھوڑے پر آرہا ہوں وہ یہی کہتا چلا جاتا ہے۔کہ نہیں حضور تھک گئے ہوں گے مجھے خدمت کا موقعہ دیا جائے اور پاؤں دبانے لگ جاتا ہے تو جہاں محبت ہو وہاں اپنی تکلیف انسان کو کم نظر آتی ہے اور اپنے محبوب کی تکلیف بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔لیکن عام حالات میں اپنی تکلیف زیادہ محسوس ہوتی ہے اور دو عمرے کی تکلیف کم محسوس ہوتی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی تھے ان کو قریب سے کفار نے گرفتار کر لیا اور چونکہ ان کے ہاتھ سے مکہ والوں کا کوئی عزیز مارا گیا تھا اس لئے گرفتار کر کے انہیں مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔انہوں نے چاہا کہ اپنے اس عزیز کے بدلے اس صحابی کو تکلیفیں دے دے کر از دیں۔چند دن انہیں قید میں رکھا اور جب ایک دن انہوں نے چاہا کہ آپ کو شہید کر دیں اور قتل کی تیاری کرنے لگے تو اس وقت انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ بہت ڈرا ہوا ہو گا۔اس صحابی سے پوچھا کہ کیا تم را دل چاہتا ہے کہ اس وقت محمد (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہاری جگہ ہوتے اور تم آرام سے مدینہ میں اپنے بیوی بچوں میں میٹھے ہوئے ہوتے۔انہوں نے کہا تم تو کہتے ہو کہ کیا تمہیں پسند ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہوں اور میں مدینہ میں اپنی بیوی بچوں میں آرام سے بیٹھا ہوا ہوں لیکن مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوا ہوں اور محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے کوئی کانٹا بھی چھو جائے۔اب دیکھو اس صحابی کو اپنی تکلیف اس وقت یاد نہ رہی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت اور آپ کے عشق میں مدہوش ہونے کی وجہ سے آپ کی ایک خیالی تکلیف سے اسے بے چین کر دیا۔اسی طرح اور ہزاروں واقعات صحابہ کی زندگی میں ملتے ہیں مثلاً میں نے کئی دفعت نایا ہے کہ اُحد کی جنگ میں ایک صحابی سخت زخمی ہوئے بہانتک کہ ان کی موت کا وقت بالکل قریب آگیا اتفاقاً ایک صحابی جو زخمیوں کی دیکھ بھال میں مشغول تھے ان کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ گھرمیں کوئی پیغامیہ دنیا ہے تو مجھے دیدو۔تم خود ہی سوچو ایسی تکلیف کی گھڑی میں لوگ کس طرح کو اہتے اور چیختے چلاتے ہیں ہائے میں مرگیا۔ہائے کوئی دوائی دینے والا بھی نہیں۔یہی الفاظ ہوتے ہیں جو ان کے منہ سے نکل ہے ہوتے ہیں۔مگر وہاں نہ مرسم بیٹی کا کوئی سامان ہے نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیاں ہیں نہ سٹریچر ہیں۔نہ ہسپتال ہیں نہ پچکاریاں ہیں نہ شک اور عنبر ہیں۔پتھریلی زمین میں پڑا ہوا ایک انسان خاک و خون میں تڑپ رہا ہے وہ جانتا ہے کہ میں تقریب مرنے والا ہوں اس کی تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچی ہوتی ہے۔