خطبات محمود (جلد 2) — Page 214
کے نیچے بیٹھ گیا۔اور میں نے خدا تعالے سے کہا۔اے خدا وہ جو تیرے رسول پر غار حراء میں وقت آیا تھا بس وہی وقت آج مجھ پر آگیا ہے۔اب تو اسی طرح میری مدد کہ جس طرح اس دن ہمارے رسول کی مدد کی تھی۔اب کجا غارِ حرا کا واقعہ اور کجا یہ واقعہ۔انہوں نے زیادہ سے زیادہ یہی کرنا تھا کہ کرائیں چھین لینی تھیں۔اور مٹی کھودنے سے روک دینا تھا۔بھلا اس کا غار حراء کے واقع سے کیا تعلق۔جہاں اسلام اور جماعت اسلام کی موت کا سوال تھا لوگ لہو لگا کر شہیدوں میں ملنا کہتے ہیں۔مگر یہاں تو اتنی بات بھی نہیں تھی۔مگر اس بیچارے نے اپنے دل گردہ کے مطابق اسے ہی نار حراء کا واقعہ سمجھا اور خدا تعالے سے دعا کرنی شروع کر دی۔کہ اسے خدا ! آج پھر وہی وقت آگیا ہے۔جو تیرے رسول پر غار حراء میں آیا تھا۔غرض یہ واقعہ سنا کر وہ دوست کہنے لگے کہ بس جی اللہ تعالے نے دعائن کی۔اور وہی معجزہ غار حراء والا دکھا دیا دو اصل میں تو د افعہ غار ثور کا ہے لیکن عوام میں غار حراء کے واقعہ سے مشہور ہے۔اس لئے اس دوست نے اپنے علم کی بناء پر سے غار حراء کا واقعہ ہی کہہ دیا) اور مرزا صاحب واپس چلے گئے اور مجھے کچھ نہ کہا شاید اللہ تعالٰی نے ان کی آنکھوں پر تصرف کیا اور انہیں میں نظر بنی نہیں آیا۔اب دیکھیو اپنی کتنی چھوٹی سی تکلیف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غار ثور والے واقعہ کے برابر نظر آنے لگی۔حالانکہ ان قربانیوں کے مقابلہ میں جو رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وم نے کیں اس بیچارے کی قربانی تو الگ رہی ہم میں سے جسے سب سے زیادہ قربانیاں کرنے کا موقعہ ملا ہے اس کی قربانیاں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔لیکن چونکہ اپنی تکلیف ہمیشہ بڑی معلوم ہوتی ہے ، اس لئے انہوں نے اپنی ایک معمولی سی تکلیف کو اتنی بڑی اہمیت دیدی۔تی انسان اپنی چھوٹی سی تکلیف کو بھی بہت بڑا محسوس کرتا ہے اور دوسرے کی بہت بڑی تکلیف کہ بھی معمولی خیال کرتا ہے۔سوائے اس کے کہ دل میں عشق ہوا اور محبت کے جذبات دل میں کام کہ رہے ہوں۔کیونکہ یہاں عشق ہو وہاں انسان اپنی تکلیف کو معمولی خیال کرتا مگر اپنے محبوب کی ایک معمولی بلکہ خیالی تکلیف کو بھی بہت بڑی تکلیف محسوس کرتا ہے۔مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی ہے اور میں اپنے دل میں کہا کرتا ہوں کہ الہی تیری بھی عجیب قدرت ہے کہ تونے کس طرح لوگوں کے دلوں میں میری نبوت محبت کے جذبات پیدا کر دیئے کہ جب کبھی سفر میں باہر جانے کا موقعہ ملے اور میں گھوڑے پر سوار ہوں تو ایک نہ ایک نوجوان حفاظت اور خدمت کے خیال سے میرے گھوڑے کے ساتھ ساتھ پیدل چلتا چلا جاتا ہے۔اور جب میں گھوڑے سے اترتا ہوں تو وہ فورا آگے بڑھکر میرے پاؤں دبانے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے حضور تھک گئے ہوں گے۔میں خیال کیا کرتا ہوں کہ میں تو گھوڑے پر سوار آیا اور یہ گھوڑے کے ساتھ پیدل چلنا آیا