خطبات محمود (جلد 2) — Page 216
' جس کی شدت کا اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تند سان بھی مٹی پر لیٹے تو اسے نیچے سے کنکر وغیرہ جیھتے ہیں مگر وہ زخمی تھا اور سرسے نے کہ پیر تک زخمی تھا اور اس زمین میں تڑپ رہا تھا جو پتھر لی تھی اور جس پر جابجا کنکر اور پتھر پڑے ہوئے تھے اس کا جسم اس وقت ٹکڑے ٹکڑے فضا اور اس کی روح عنقریب اپنے جسم خاکی سے پرواز کرنے والی بھی کہ ایسی نازک حالت میں ایک صحابی آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے۔بھائی ! کوئی حاجت ہے تو بتا دو۔وہ اپنے ہاتھ آگے بڑھاتا اور اس سے مصافحہ کرتا ہے اور کہتا ہے۔میں دل میں ہی خواہش کر یہ کہا تھا کہ کاش! اس وقت کوئی مسلمان ملے جو میرا ایک پیغام میرے رشتہ داروں تک پہنچا دے۔سو خدا کا شکر کہ تم آگئے۔لوشنو ! میرا یہ پیغام میرے عزیز دل تک پہنچا دینا کہ اے میرے عزیز و محمد صلے اللہ علیه و آله و سلم خدا تعالے کی ایک بہترین امانت ہیں۔جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اس امانت کو سنبھال کر رکھنے کی کوشش کی۔اب ہم چیلے ہیں اور وہ امانت تمہارے سپرد ہو رہی ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم اپنی جانیں قربان کر کے بھی اس امانت کی حفاظت کرو گے اور یہ کہہ کر ان کی جان نکل گئی ہیں اب دیکھیو سخت کنکریلی اور تھریلی زمین پر ایک زخمی انسان پڑا ہے۔وہ سر سے لیک کینک زخمی ہے۔وہ انتہائی تکلیف میں مبتلا ہے وہ موت کے قریب پہنچ چکا ہے۔اس کا تمام خون اسی نم سے نکل چکا ہے۔مگر ایسی حالت میں بھی اُسے اپنی تکلیف کا خیال نہیں آتا۔اگر آتا ہے تو یہی کہ محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم جو مدینہ میں اپنے دوستوں اور خیر خواہوں میں جائیں گے ان کی حفاظت اور اطاعت میں کوئی کمی نہ ہو۔تو عشق اور محبت میں انسان اپنی تکلیف کو بھی معمولی سمجھتا اور اپنے محبوب کی خیالی تکلیف کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے مگر جہاں عشق نہ ہو۔وہاں انسان دوسرے کی بڑی سے بڑی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا۔اسی لئے بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہیں جب وہ سنتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھوی رکھ دی۔حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور اپنے اکھلوتے بیٹے کو ایک ہے۔آب و کیا وہ جنگل میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت چھوڑ دیا تو ان کے دلوں میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا۔وہ کہتے ہیں کیا ہوا ؟ اگر حضرت ابراہیم نے یہ قربانی کر دی۔وہ سمجھتے ہیں بے شک ابرا ہیمیں ایک اچھا آدمی تھا اوراس نے نیکی کا ثبوت دیا۔مگر ان کے جذبات کو اتنی بھی ٹھیس نہیں لگتی جتنی ھیں انہیں اس وقت لگتی ہے جب وہ اپنی مرغی کسی کے لئے ذبح کرتے ہیں۔کیونکہ وہ ان کی اپنی چیز ہوتی ہے اور ان کے جذبات اور احساسات اس وقت اُبھرے ہوئے ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم کہیں سیر کے لئے گئے اور راستہ میں ایک جگہ ٹھر سے۔دناں ایک