خطبات محمود (جلد 2) — Page 179
169 انعام دنیوی حکومتوں کی طرف سے نہیں ہوتے کہ کسی کو فشن پر بھیجنے لگے تو کپتان بنا دیا۔اس کپتان کا مطلب نہیں ہوتا کہ جاؤ اور لڑو۔بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ جاؤ آرام سے گھر میں بیٹھو لیکن اللہ تعالے کی طرف سے جو انعام آتے ہیں وہ بیسم، روح ، دل دماغ غرضیکہ ہر چیز کی قربانی چاہتے ہیں اور جب تک انسان سب کچھ اس کے سامنے نہیں ڈال دیتا۔اور اپنے آپ کو معدوم کرنے کی کوشش نہیں کرتا اس وقت تک اللہ تعالے یہ نہیں سمجھتا کہ اس نے انعام کا بدلہ دیدیا ہے۔مجھے اس مضمون کی طرف ایک رؤیا سے بھی تحریک ہوتی ہے۔جو چند روز ہوئے ہیں نے دیکھا تھا میں نے دیکھا کہ کوئی شخص باہر سے آیا ہے اور اس کی بیوی اور ملازم بھی ساتھ ہیں کیا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی آسودہ حال آدمی ہے۔بعض مسائل پوچھتا اور اس کے بعد اطمینان حاصل کر کے سلسلہ میں داخل ہونا چاہتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ کچھ باتیں مجھ سے یا سلسلہ کے علماء کے ساتھ کر چکا ہے میں نے اسے بڑے کمرے میں جہاں میں ملاقاتیں کرتا ہوں سمجھایا اور جیسا کہ میرا قاعدہ ہے کہ سوائے اس وقت کے کہ ملنے والے پتلون وغیرہ پہنے ہوں فرش پر ہی سمیٹتا ہوں اس وقت بھی فرش پر ہی بیٹھا ہوں۔ان کے دو ملازم آئے اور کوچ پرپیچھے گئے ہیں اس کے بعد ان کی بیوی بھی آگئی جو مصری یاشامی آزاد تعلیم یافتہ خورتوں کی طرح سیاہ رنگ کا برقعہ اوڑھے ہے جس میں منہ ناک آنکھیں ننگی ہیں ، سر بال اور گردن وغیرہ ڈھکی ہوئی ہے۔پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرد پورے طور پر سمجھ چکا ہے اور عورت سمجھنا چاہتی ہے وہ آدمی کہنا ہے کہ میری بیوی بھی سوال کرنا چاہتی ہے۔اور اس کی خواہش ہے کہ اُسے روحانی ترقی کے گر بتائے جائیں۔تصوف کی طرف اس کا میلان معلوم ہوتا ہے۔اور صوفیاء کا جیسا قاعدہ ہے کہ وہ بعض اصطلاحات بولتے ہیں۔مثلاً مومن کو پرندہ کہتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت نے بھی کوئی ایسی اصطلاحیں بنائی ہیں۔اس کا خاوند میرے کان میں کہتا ہے کہ اس کی خواہش ہے میں روحانی پٹواری بن جاؤں۔چونکہ میں سمجھ گیا ہوں کہ اس کا میلان تصوف کی طرف ہے اس لئے اس لفظ کے سننے سے مجھے تعجب نہیں ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح پٹواری زمینوں کی پیمائش کرتا ہے ، لوگوں کے حقوق کی نگرانی کرتا ہے، مالیہ مقرر کرتا ہے، اسی طرح اس کی خواہش ہے کہ میں ایسے مقام پر پہنچ جاؤں کہ دوسروں کی نگران ہو جاؤں اور میں یہی مفہوم سمجھتا ہوں۔عورت چونکہ کچھ فاصلہ پر ہے وہ تبھی ذرا اونچی آواز سے کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں۔میں پٹواری بن جاؤں اس پر اس کا خاوند ٹھیک کر کہتا ہے کہ پیچھے جیون فھاں بیٹھا ہے، یہ لفظ نہ بولو۔گویا ان دو نوکروں میں سے ایک جو میری پشت کی طرف بیٹھا ہے جیوں خان ہے۔دوسرا نو کر جیون خان کے پاس میرے پیچھے خدا بائیں طرف کو بیٹھا ہے اس پر وہ آہستہ سے کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں کوئی روحانی مقام حاصل کروں اور پھر آہستہ سے پٹواری