خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 178

منظور کر لیا جائے۔بادشاہ نے کہا کہ ناراض تو میں اس پر ہوا ہوں تم کیوں روتے اور استعفی دے رہے ہو شبلی نے کہا کہ اس پر آپ کی ناراضنگی نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔اس شخص نے اپنی جان کو قربا ان کر کے آپ کے لئے ملک فتح کیا۔وہ ہر رونہ اپنی بیوی کو ہو گی اپنے بچوں کو غنیم اور اپنی جان کو ہلاکت کے خطرہ میں ڈالتا تھا۔وہ ہر روز آپ کے لئے موت کے منہ میں جاتا اور اپنی جان کو موت کے لئے پیش کرتا تھا۔مگر آپ نے اسے کپڑوں کا خلعت دیا جس کی بے حرمتی سے آپ اتنے ناراض ہوئے کہ اس کی سب خدمات کو نظر اندازہ کر دیا۔لیکن میرے رب نے مجھے کتنے خلعت دیتے ہیں۔ناک ، مونسہ ہاتھ پاؤں وغیرہ اور میں انہیں روز خراب کرتا ہوں۔شبلی گورنری کے زمانہ میں اتنے ظالم اور جابر تھے۔کہ اس کے بعد وہ جس بزرگ کے پاس بھی گئے کہ اس کے ہاتھ پہ تو بہ کریں اس نے یہ کہکہ واپس کر دیا کہ تمہاری تو بہ نہیں قبول ہو سکتی۔آخر دہ حضرت جنید کے پاس پہنچے جنہیں ابو الصوفیاء کہا جاتا ہے یہ اور کہا کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں مگر سب کہتے ہیں کہ میری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔حضرت جنید نے فرمایا کہ جھوٹ کہتے ہیں۔خدا سب کی توبہ قبول کرتا ہے مگر ایک شرط تمہارے واسطے یہ ہے کہ اپنے دارالحکومت میں جاؤ اور ہر دروازه پر دستک دیگر مکینوں سے معافی مانگو۔چنانچہ جہاں ایک عرصہ تک گورنری کرتے رہے تھے وہاں گئے اور ہر گھر سے معافی کی لیے پھر آ کر مبعیت کی اور ایسی سچی توبہ کی کہ آج وہ بھی جنید کی طرح ہی مشہور ہیں بلکہ خوام میں مشہلی زیادہ مشہور ہیں۔یہ رہی مشبلی ہیں کہ منظور کو جب دار پر چڑھایا گیا اور لوگ پتھر مارنے لگے تو انہوں نے بھی ایک پھول اٹھا کر مارا۔آپ کا مطلب غالبا یہ تھا کہ خدا کی راہ میں پڑنے والے پتھر در اصل پھول ہوتے ہیں میگر منصور نے اس بات کو نہ سمجھا اور خیال کیا کہ مشیلی نے بھی لوگوں کو دیکھ کر پتھر کے بجائے مجھے پھول مار دیا تا لوگ سمجھیں کہ یہ بھی مار رہا ہے۔اس پر منصور رو پڑے اور کہا کہ عوام کے پھر مجھے نہیں لگتے مگر شبلی کا پھول بہت سخت لگا ہے ہے تو میں کہہ رہا تھا کہ ہر انعام کے لئے قربانی ضروری ہے بادشاہ نے اس جرنیل کو انعام دیا تھا اور اس سے یہ قربانی چاھی تھی کہ اس کی عزت کرے اور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر اسے بچائے۔رسول کریم مسلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دفعہ ایک تلوار نکالی اور فرمایا یہ ہمیں اس شخص کو ڈونگا جو اس کا حق ادا کرے۔ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے دیجئے۔چنانچہ اسے دی گئی اور وہ جب شہید ہوا تو صحابہ کا بیان ہے کہ اس کے جسم کے ستر کڑے تھے۔اور وہ دشمنوں کے لئے ایک آنت بنا رہا تھا جہاں بھی کوئی خطرہ پیدا ہوا وہ فوراً پہنچا۔ایک بازوکٹ گیا تو دوسرے میں تلوار پکڑ کر چلاتا رہا وہ کٹ گیا تو منہ میں لیکر چلاتا رہا۔پس اللہ تعالے کی طرف سے جو انعام آتے ہیں وہ ہمیشہ قربانی کا تقاضا کرتے ہیں وہ