خطبات محمود (جلد 2) — Page 180
۱۸۰ مینگور کا لفظ بولتی ہے اور پھر وہ کہتی ہے کہ ذرا الگ میری بات سُن لیں۔گویا وہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کے ملازم شن لیں اور میں ذرا پرے ہو کہ اس کی بات سُنتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ عاشق کو انعام سے کیا تعلق ہے۔اس کا کام تو قربانی کرنا ہے پھر اسے انعام سے کیا واسطہ میں اسے کہتا ہوں کہ اپنی بات کو ذرا اور واضح کرو۔اس پر وہ سورۃ الرحمن کی کچھ آیات پڑھ کر کہتی ہے کہ مجھے ان پر کچھ شبہ پیدا ہوتا ہے نہیں سمجھتا ہوں کہ اسی لئے اس نے کہا تھا کہ الگ ہو کر بات سن لیں کرنا نوکر اسے بے دین نہ سمجھیں حالانکہ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔سورہ رحمن کی ان آیا ہے میں اللہ تعالے کے انعامات کا ذکر ہے۔میں رویا میں سمجھتا ہوں کہ گو الفاظ نام ہیں نہ انعامات سارے انسانوں کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لئے ہیں اور وہ پوچھتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عاشق تھے انہیں انعام سے کیا واسطہ ہے اس پر میں نے اسے ایک مثال کے ذریعہ سے سمجھانا چاہا اور اس سے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ ایک بادشاہ ہے اس پر یتیم حملہ کرتا ہے وہ اپنے ایک وفادار جرنیل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں کمانڈر بنا کر اس غنیم کے مقابل پر بھیجتا ہوں۔اب تم ہی بتاؤ کہ وہ کیا کہے کیا یہ کہے کہ نہیں حضور میں تو خادم اور عاشق ہوں مجھے انعام کی ضرورت نہیں یا یہ کہ بہت اچھا حضور اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں اسے چاہیئے اس عمدہ کو قبول کرلے نہیں کہتا ہوں کہ بس یہی حال یہاں ہے۔یہاں اللہ تعالے نے جو انعام دیا ہے وہ حقیقت میں قربانی ہوتی ہے اس پر اس نے اپنی تسلی کا اظہار کیا اور میری آنکھ کھل گئی۔یہ مضمون حقیقت پر مبنی ہے۔دیکھو جنگ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد وہ لوگ کھڑے ہوتے تھے۔جو سب سے زیادہ بہادر سمجھے جاتے تھے کہے کیونکہ آپ پر ہی مشین کے تمام حملوں کا دور ہوتا تھا اور ظاہر ہے کہ آپ پر یہ حملے نبوت کی وجہ کہی ہوتے تھے۔گویا نبوت نے آپ کو بہت بڑی قربانی کے مقام پر کھڑا کر دیا تھا۔تو اللہ تعالے کی طرف سے جتنے انعام آتے ہیں ان کے ساتھ قربانی کا تقاضا لازمی طور پر ہوتا ہے۔اللہ تعالے نبی سے فرمانا ہے کہ جاؤ ہم نے دنیا تیرے ماتحت کر دی۔مگر پہلے وہ دنیا جو ماتخت کی جاتی ہے بھارتی ہے ، گن سکتی ہے، مقدمے چلاتی ہے، دکھ دیتی ہے اور اس طرح نبوت جو دراصل انعام ہے۔دنیوی نقطہ نگاہ سے بلا ہو جاتی ہے۔کونسا نبی آیا ہے جسے گالیاں نہ دی گئیں تکالیف اور ایذائیں نہ پہنچائی گئیں۔انبیاء کو تکالیف دینے والوں کا ذہن برائی کے متعلق اتنا تیز ہو جاتا ہے کہ انسان خیال بھی نہیں کر سکتا کہ اتنی گندی گالیاں بھی دی جا سکتی ہیں تو گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئیں اور آپ کو ایذا رسانی کی جو تدابیر اختیار کی گئیں کیا