خطبات محمود (جلد 2) — Page 177
166 اس میں یہ سبق ہے کہ خدا کی راہ میں قربانی ہی حقیقی عزت ہوا کرتی ہے۔اور تحقیقی عورت میں قربانی ہوتی ہے۔خدا تعالنے کے لئے قربانی کر نی الاکبھی نا کام نہیں رہ سکتا اور جیسے خدا تعالیٰ عززت دے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قربان ہو جاؤ۔قرآن کریم میں اللہ تعالے فرماتا ہے کہ بعض مسلمان جو منافق اور کمزور مسلمان تھے۔احسان جتاتے تھے کہ ہم نے اسلام قبول کیا۔لیکن اللہ تعالئے فرماتا ہے کہ یہ ہمارا ان پر احسان ہے۔کہ انہیں اسلام لانے کی توفیق دی ہے اور اس احسان کے بدلہ میں اللہ تعالے کیا چاہتا ہے ایسی کہ جاؤ اور جا کر مر جاؤ۔قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ جاؤ اور اللہ تعالے کے رستہ میں جائیں۔دید و۔یہ احسان کا بدلہ ہے۔اسلام نے انعام کا نتیجہ قربانی رکھا ہے۔جب تک قربانی نہیں انجام نہیں مل سکتا۔اور جب انعام ملے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ قربانی کرو۔پس خدا تھا نے سے کوئی شخص انعام نہیں پاسکتا جب تک کہ وہ قربانی نہ کرے۔اور ہر انعام کے بعد اسلام امید کرتا ہے کہ پھر قربانی کی جائے۔یہ ایک چکر ہے جو اسی طرح چلتا جاتا ہے۔سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یعنی سب کام رحمانیت اور رحیمیت سے شروع ہوتے ہیں۔اور پھر اللہ تعالے رحمانیت اور رحیمیت کا دور لاتا ہے۔اسی طرح ہر انعام قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔اور ہر قربانی کا نتیجہ امام ہے مشہور ہے کہ ایک بڑے بزرگ شمبل گذشت سے ہیں۔وہ اپنے زمانہ کے اسلامی بادشاہ کی طرف سے کسی علاقہ کے گورز تھے۔اور ایسے ظالم اور جابر گور نر کھتے کہ ان کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ انہیں بھی کبھی ہدایت ہوگی وہ ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں حاضر تھے کہ کوئی جرنیل بہت بڑی فتح کے بعد حاضر ہوگا۔بادشاہ نے اسے خلعت دیا۔جو اسے پہنایا گیا۔اور سب نے اسے مبارکباد دی کہ بڑی عزت افزائی ہوئی ہے۔لیکن بد قسمتی سے اس جرنیل کو نزلہ کی شکایت تھی۔درباریوں میں رواج ہوتا ہے کہ وہ رومال ساتھ رکھتے ہیں مگر وہ جلدی میں یا خوشی ہیں گھر سے رومال لانا بھول گیا تھا۔چھینک آئی تو ناک سے رطوبت نکلی وہ بہت گھبرایا کہ اب کیا کروں۔اس نے ذرا نظر بچا کر اسی خلدت کے دامن سے پو نچھ لیا۔اتفاق سے بادشاہ کی نظر اس پر پڑ گئی۔اس نے حکم دیا کہ خلوت فوراً اتار لی جائے اور حمدے سے معزول کر دیا جاے کہ اس نے ہماری بنک کی ہے جو خلوت اسے حرکت کے لئے دیا گیا تھا اس سے ناک پونچھ لی ہے۔مشعیلی بھی اس وقت کوئی رپورٹ دینے کے لئے بادشاہ کے دربار میں حاضر تھے حکم شنکر ان کی چنچنین نکل گئیں اور گورنری کا پروانہ بادشاہ کے سامنے رکھ کر آپ نے کہا کہ میرا استعفیٰ