خطبات محمود (جلد 2) — Page 156
104 انہیں اپنا بچہ تڑپتا ہوا دکھائی دیتا تھا اس لئے جب وہ ٹیلے سے نیچے اترتیں تو اس خیال سے کہ میعلوم بجے کا کیا حال ہو جائے دوڑ کر اُتر نہیں۔آجنگ حضرت ہاجرہ کے اس واقعہ کی یادگار کے طور پر حج کے ایام میں صفا اور مروہ پر دوڑ کر چلا جاتا ہے اور یہ دوڑ کر چلنا اسی رسم کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔جب حضرت ہاجرہ نے اس کرب و اضطراب میں بسات چکر کاٹے اور انہیں کوئی چیز نظر نہ آئی اور ان کا دل بیٹھنے لگا تو خدا تعالے کا الام نازل ہو اگر اسے باجرہ خدا نے تیرے بچہ کے نئے سامان کر دیا جا اور اپنے بچے کو دیکھے۔حضرت ہاجرہ واپس آئیں تو انہوں نے دیکھا جہاں بچہ پیاس کی شدت سے تڑپ رہا تھا وہاں ایک پرانا چشمہ ابل رہا ہے۔جو لوگ پہاڑی مقامات کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ بعض دفعہ بہت پرانے چشمے مٹی وغیرہ سے اٹ جاتے ہیں۔اور کسی کو یا تک نہیں رہتا کہ اس سطح زمین کے نیچے چیمہ ہے کشمیر میں بھی ایسے چٹھے دیکھنے میں آتے ہیں حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ پیشہ پہلے سے تھا۔بچے نے جب ایڑیاں رگڑیں تو وہ چشمہ پھوٹ پڑا۔پانی کا تو اللہ تعالے نے اس طرح انتظام کر دیا ، اب غذا کی فکر تھی۔اتفاقاً ایک قافلہ راستہ بھول گیا اور وہ اسی جگہ آپہنچا جہاں حضرت ہاجرہ بیٹھی تھیں۔قافلہ والوں کو پانی کی سخت ضرورت تھی جب انہوں نے وہاں چشمہ دیکھا تو انہوں نے حضرت ہاجرہ کو بڑی بڑی رقوم دیں اور کہا کہ ہم آپ کی رعایا ہو کہ یہاں رہیں گے ہمیں اس جگہ بننے کی اجازت دی جائے۔حضرت ہاجرہ نے انہیں اجازت دیدی پس وہ حضرت ہاجرہ اور اسمعیل کی ریمایا ہو کر وہاں رہنے لگے اور پیشتر اس کے کہ حضرت اسمعیل جوان ہو، خدا نے اسے بادشاہ بنادیا۔آج تک حج کے ایام میں حضرت ہاجرہ کے واقعہ کو یاد دلایا جاتا ہے جب کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو دادی غیر ذی زاری میں چھوڑا۔آج ہم میں سے جن کو اللہ تعالے توفیق دیتا ہے جاتے ہیں اور اسی جگہ اپنی پہاڑیوں کا طواف کرتے ہیں وہ وہاں اپنے بچے کو چھوڑ کر نہیں آتے حضرت ابراہیم والی قربانی کا ان سے مطالبہ نہیں کیا جاتا۔صرف ان سے یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ اگر تمھیں خدا کے لئے اپنے بچوں کی قربانی کرنی پڑے تو تم بشاشت کے ساتھ یہ قربانی کرو گے صرف اقرار لیا جاتا ہے کہ اگر تم کو چندا کے لئے کسی وقت اپنے عزیزوں کو چھوڑنا پڑے تو تم انہیں چھوڑ دو گے۔آج ہر دو شخص جو صفا و مروہ کا طواف کرتا ہے وہ اسی صورت کے نقش قدیم کا اتباع کرتا ہے جسے ناقص العقل والدین کہا جاتا ہے۔اس طواف کے ذریعہ ہر مومن سے یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ کم از کم میں ایک عورت سے اپنے ایمان میں زیادہ ہونا چاہیئے۔ہم اس کے بعد عید کرتے ہیں، اس لئے کہ ہم نے اس مقصد کو پورا کر دیا جو خدا نے ہم سے لیا اور یہ عید اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اس محمد کو نباہا۔مگر کیا تم اپنے نفسوں کو ٹٹول کر اور سینوں پر ہاتھ رکھ کر کر سکتے ہو کہ تم نے اس عہد کو