خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 155

100 اور جو اس وقت کی کیفیت تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے معلوم ہوتی ہے۔با تیبل میں بھی واقعات مذکور ہیں مگر اتارے کے طور پر کیونکہ بائبل والوں کو نبو اسمعیل سے ہشمنی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم نے ہاجرہ کو اس بیابان میں چھوڑا تو اس وقت ان کے پاس صرف ایک تھیلی کھجوروں کی اور ایک مشکیزہ پانی کا رکھے دیا اور کہا میں ذرا ادھر جاتا ہوں چونکہ نبی اور جھوٹ جمع نہیں ہو سکتے اس لئے وہ جھوٹ تو بول نہیں سکتے تھے اور سچ بولنے سے حضرت ہاجرہ کو جو صدمہ ہوتا تھا وہ بھی سامنے تھا اس لئے انہوں نے صرف اسی قدر کہا کہ میں فی الحال جاتا ہوں کیونکہ الہام کے ذریعہ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ پھر دوبارہ انہیں اس وادی میں آنا ہو گا یہ اس وقت قدرتی طور پر بیوی اور بچے کی محبت نے اثر دکھایا انہوں نے اس وادی کو چاروں طرف دیکھا مگر انہیں تمھاڑی تک دکھائی نہ دی۔پانی کا قطرہ تک نظر نہ آیا کھانے کی ایک چیز تک معلوم نہ ہوئی انہوں نے سوچا کہ ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور ایک دو دن سے زیادہ کہاں کام دے سکتی ہے۔پھر سوائے ریت کے ذروں اور آفتاب کی چمک کے اور کوئی چیز میری بیوی اور بچے کے لئے نہیں ہوگی یہ سوچتے ہی ان پر رقت طاری ہو گئی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ان کی آنکھوں کی نمی اور ہونٹوں کی پھڑ پھڑاہٹ سے حضرت ہاجر سمجھ گئیں کہ بات کچھ زیادہ ہے وہ حضرت ابراہیم کے پیچھے پیچھے چلیں اور کہا ابراہیم کیا بات ، مر حضرت ابراہیم رقت کی وجہ سے جواب نہ دے سکے۔حضرت ہاجرہ کے دل میں اس سے اور بھی مشبہ پیدا ہوا۔اور انہوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ابراہیم تم ہمیں کہاں چھوڑے جاتے ہو یہاں تو پینے کے لئے پانی نہیں اور کھانے کے لئے غذا نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دینا چاہا کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت ایسا کر رہا ہوں مگر رقت کی وجہ سے آواز نہ نکل سکی تب انہوں نے آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے جس کے منے یہ تھے کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت ایسا کر رہا ہوں۔تب حضرت باجرہ یقین اور ایمان سے پر ہاجرہ جو اپنی جوانی کی عمر میں تھی اور جس کا ایک ہی بیٹا تھا جوس وقت موت کی نذر ہو رہا تھا۔فورا حضرت ابراہیم کا پیچھا کرنے سے رک گئی اور کہنے لگی اگر یہ بات ہے تو پھر خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔آخر پانی ختم ہوا، غذا ختم ہوئی اور با وجود اس کے کہ اس علاقہ میں کوئی چیز نہ آتی تھی حضرت ہاجرہ اپنے بچہ کی تکلیف کو دیکھ کر جو پیاس سے تڑپ رہا تھا ایک ٹیلے پر چڑھ گئیں کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے اور اس سے پانی مانگ لیں یا کوئی آبادی دکھائی دے۔انہوں نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر میں حد تک انسانی نظر کام کر سکتی تھی دیکھا اور خوب دیکھا مگر انہیں کہیں پانی کا نشان تک نظر نہ آیا۔تب وہ اسی گھبراہٹ میں اتریں اور دوڑتی ہوئی دوسرے ٹیلے پر چڑھ گئیں وہاں سے بھی دیکھا مگر پانی کے کوئی آثار نظر نہ آئے پونا ، میلے کی چوٹی سے