خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 157

پورا کیا ؟ کیا تمہارا ایمان صرف تمہاری زبانوں تک محدود نہیں۔کیا واقعی وہ ایمان تمہارے قلوب پر حاوی ہو گیا۔کیا واقعہ میں اس نے تمہارے جذبات پر تصرف حاصل کر لیا۔اگر کر لیا تو پھر تمہاری سچی عید ہے۔اور اگر نہیں بلکہ تمہارا ایمان صرف تمہارے دماغ اور فکر اور زبان تک محدود ہے تو پھر یہ عید تمہارے لئے عید نہیں بلکہ ایک ماتم کا دن ہے دیکھیو ایک عورت نے ، اُس عورت نے جس کی زندگی کا سہارا ایک ہی بچہ تھا اپنے وطن عزیز اور رشتہ داروں کو خدا تعالے کے لئے چھوڑ کرکھیا نمونہ دکھایا۔آج خدا اس نمونہ کو قائم کر کے عورتوں سے کہتا ہے کہ تم میں سے ہی ایک عورت تھی جس نے خدا کے لئے یہ نمونہ دکھایا۔کیا تم اس سے نرالی ہو کہ تمھیں الله تعالے کے راستہ میں مصائب برداشت کرنا دو بھر معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح وہ مردوں سے کتا ہے کہ تمھیں شرم کہو نی چاہیئے، ایک عورت نے نحیف ہو کر کمزور ہو کر ہے بصناعت ہو کر جب یہ نمونہ دکھا یا تو کیا تم مرد ہو کہ جنہیں زیادہ قوتیں دی گئی ہیں۔قربانی سے ہچکچاتے ہو۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کے مسیح کو قبول کیا اور ہمیں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑنا پڑا۔مگر میں کہتا ہوں تم سے کون ہے جس نے حضرت ہاجرہ سے زیادہ قربانی کی ہو جس نے اپنے آپ کو ان حالات میں سے گزارا ہو جن کے ماتحت حضرت ابراہیم نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھا دیا۔اور یقین سے پُر ہاجرہ نے کہا۔اِذن لا يضيعنا۔ہم کو بھی خدا کے ایک مامور کی صحبت نصیب ہوئی۔ہمیں بھی اس پر ایمان لانے کا موقعہ عطا ہوا۔مگر کیا ہم جو اس مامور پر ایمان لائے دعوئی سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حضرت ہاجرہ جیسی قربانی کی ؟ کیا ہمیں دشمنوں کی عداوت کو دیکھ کر یہ نہیں کہنا چاہیے۔اذن لا يضيعنا اگر حضرت ہاجرہ کے دل میں سمجھیل کی اس تڑپ اور موت کی سی حالت کو دیکھ کر کرب و اضطراب پیدا ہوتا ہے۔اور وہ بے تابانہ صفا و مروہ پر دوڑتی اور سات چکر لگاتی ہیں تو کیا محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے لئے جبکہ ہم اس دین کو آج موت کی حالت میں دیکھ رہے ہیں ہمارے دلوں میں کرب و اضطراب پیدا نہیں ہونا چاہئیے۔ہم اس بات کے دعویدار ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود پر ایمان لاکر رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں داخل ہو گئے ہی مگر کیا ایمان اس بات کا نام نہیں کہ اپنی ہر چیز خدا کے مقابل پر ہماری نظروں میں ہیچ ہو جائے۔اور جس طرح حضرت ہاجرہ نے اپنے بچہ سکتے لئے قربانی کی ہم اسلام کے لئے قربانی کریں۔یقین اگر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ آج دین کی نہایت ہی نازک حالت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حالت کو ایک بیمار بچہ سے تشبیہ دی ہے۔آپ فرماتے ہیں نے بران کفر است جوشان همچو انواع بزنید این حق بیمار دی کیس میمو زین العابدیان