خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 451

$1948 451 خطبات محمود - جب وہ دیکھتی ہے کہ انسان اپنے ایجاد کردہ علوم کی وجہ سے دنیا کا اندازہ لگا نا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے ٹھہرو۔اب اندازہ لگاؤ اور پھر انسان حیرت زدہ ہو کر کھڑا رہ جاتا ہے۔یہ انسان ہے اور وہ خدا ہے۔یہ انسان جس کی حیثیت خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اس سے بھی ادنی ہوتی ہے جتنی حیثیت کہ ایک ادنی سے ادنی خورد بینی کیڑے کی انسان کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔اسے خدا تعالیٰ کہتا ہے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔کبھی وہ براہ راست کہتا ہے اور کبھی کسی فرشتے کے ذریعے سے کہتا ہے۔یہ کتنی حیرت انگیز بات معلوم ہوتی ہے بلکہ اگر مذہب کے اصولوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو ایک مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی ہے۔تم ذرا قیاس تو کرو کہ اگر مال روڈ پر چلتے چلتے کوئی کیلے کے پتے کو جھک کر سلام کرے، تم ذرا اندازہ تو کرو کہ ایک قوم کا لیڈر، ایک بڑا جرنیل اور ایک بڑا کمانڈر سٹرک پر چلتے ہوئے ایک چیونٹی کو جھک کر سلام کرے تو تم اسے کیا سمجھو گے؟ تم یہی سمجھو گے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، لیکن خدا تعالیٰ کا ایک بندے کو سلام کرنا تو اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔وہاں کچھ تو نسبت ہے مگر یہاں تو کچھ بھی نسبت نہیں۔اس کی دوہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ سمجھا جائے کہ نَعُوذُ بِاللہ خدا تعالیٰ کا دماغ چل گیا ہے اور یا یہ سمجھ لیا جائے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کی خلقت کا اندازہ لگانا مشکل ہے اُسی طرح خدا تعالیٰ کی ملاطفت اور رحم کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔جس طرح انسان یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ دنیا کہاں سے پیدا ہوئی اسی طرح انسان یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ رحم اور تکریم خدا تعالی لایا کہاں سے ہے۔اس کے علاوہ ایک اور بات بھی سوچنے والی ہے کہ خدا تعالیٰ تو انسان کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا ہے مگر کیا بندہ بھی خدا کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا ہے؟ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنا تو الگ رہا کیا بندہ خدا تعالیٰ کے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کے جواب میں وَعَلَيْكُمُ السَّلام کہتا ہے؟ ہزاروں ہزار ایسے لوگ ہیں جن کا صبح سے شام تک سارا دن بیوی کی طرف منہ کر کے باتیں کرتے ہوئے گزر جاتا ہے، جن کا صبح سے شام تک سارا دن بچوں کی طرف منہ کر کے باتیں کرتے ہوئے گزر جاتا ہے، جن کا صبح سے شام تک سارا دن دوستوں اور دفتری اور کاروباری لوگوں سے جن سے ان کے تعلقات ہوتے ہیں باتیں کرتے ہوئے گزر جاتا ہے لیکن صبح سے شام تک ایک سیکنڈ کے لیے بھی وہ اُس ہستی کی طرف منہ کر کے بات نہیں کرتے جس کا ان سے بات کر لینا اگر مذہب اس کی حقیقت بیان نہ کرے تو مضحکہ خیز نظر آتا۔انسان کی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اتنی بھی تو حیثیت نہیں جتنی حیثیت ایک چیونٹی یا مکھی کو انسان کے